انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 627 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 627

۶۲۷ بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ و نصلی على رسوله الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ فیصلہ ورتمان کے بعد مسلمانوں کا ہم فرض (تحریر فرموده مورخہ 10 اگست ۱۹۲۷ء) ورتمان کے مقدمہ کا فیصلہ ہو گیا اور سیر دوزخ کا مضمون لکھنے والا اور اس کا چھاپنے والا دونوں ایک سال اور چھ ماہ کے لئے دنیا کی دوزخ میں ڈال دیئے گئے۔لوگ خوش ہیں۔بعض لوگ مجھے مبارک باد کے تار دے رہے ہیں اور بہت سے خطوط کے ذریعہ سے اپنی خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔مگر میرا دل غمگین ہے۔میرا دل غمگین ہے کیونکہ میں اپنے آقا اپنے سردار حضرت محمد مصطفی ٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک عزت کی قیمت ایک سال کے جیل خانہ کو نہیں قرار دیا۔میں ان لوگوں کی طرح جو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو گالیاں دینے والے کی سزاقتل ہے۔ایک آدمی کی جان کو بھی اس کی قیمت نہیں قرار دیتا میں ایک قوم کی تباہی کو بھی اس کی قیمت نہیں قرار دیتا۔میں ایک دنیا کی موت کو بھی اس کی قیمت نہیں قرار دیتا بلکہ میں اگلے اور پچھلے سب کفار کے قتل کو بھی اس کی قیمت نہیں قرار دیتا۔کیونکہ میرے آقا کی عزت اس سے بالا ہے کہ کسی فرد یا جماعت کا قتل اس کی قیمت قرار دیا جائے۔کیونکہ کیا یہ سچ نہیں کہ میرا آقا دنیا کو جِلادینے کے لئے آیا تھانہ کے مارنے کے لئے۔وہ لوگوں کو زندگی بخشنے آیا تھا نہ کہ ان کی جان نکالنے کے لئے۔اور وہ زمین کو آباد کرنے کے لئے آیا تھا نہ کہ ویران کرنے کے لئے۔اللہ تعالیٰ آسمان سے اس کے حق میں گواہی دیتا ہے کہ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْۚ۔۱؎ اے مومنو! اللہ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہو جبکہ وہ تمہیں زندہ کرنے کے لئے تمہیں بلاتے ہیں۔غرض محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت دنیا کے احیاء میں ہے نہ کہ موت میں۔پس