انوارالعلوم (جلد 9) — Page 483
۴۸۳ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ جرأت جو خدا کے بندوں میں ہوتی ہے ان میں نہیں اور اس جرأت کے نہ ہونے سے یہ ادنی ٰ ادنی ٰ لوگوں سے ڈر رہے ہیں۔مسلمان اسلامی خزانہ کے محافظ ہیں ممکن ہے کوئی کہے دوسری قومیں بھی اس حالت میں ترقی کر رہی ہیں اور اگر مسلمان بھی اسی حالت میں ترقی کرنے کے لئے کوشش کریں تو ان کو کیوں ترقی حاصل نہیں ہو سکتی۔اس کا جواب یہ ہے کہ مسلمانوں کی ترقی کے لئے یہی شرط ہے کہ وہ خدا کے ہو جائیں اور خدا ان کا ہو جائے اور جب خدا کسی کا ہو جائے تو پھر ترقی کوئی روک نہیں سکتا۔اسلام کی تاریخ پر نظر ڈال کر دیکھ لوعرب کے ان لوگوں میں جن کے غیر مہذب اور غیر متمدن ہونے کے تھے تمام علاقوں میں مشہور ہیں وہ خوبی پیدا ہو گئی کہ یکدم ان کی حالت پلٹ گئی اور وہ جو غیر مہذب تھے نیب کے استاد مانے گئے اور جو غیر متمدن تھے ان کا تمدن دنیا کاتمدن قراردیا گیا اور جو غیر تعلیم یافتہ تھے معلّم تسلیم کئے گئے اور جو حکمرانی کے طریق سے نابلد تھے حکمران بنا دیئے گئے۔یہ سب باتیں اسی لئے حاصل ہوئی تھیں کہ وہ اللہ کے ہو گئے تھے اور اللہ ان کا ہو گیا تھا۔اب بھی اگر اس نسخہ کو استعمال کیا جائے تو یہی اثر ہو سکتا ہے۔پس اگر یقین ہے کہ اسلام سچا ہے اور اس یقین کے ہوتے ہوئے مسلمان اس سے تعلق کاٹ کر ترقی حاصل کرنا چاہیں تو یہ ناممکن ہے کیونکہ وہ اسلام کے خزانہ کے محافظ مقرر کئے گئے ہیں اگر وہ اس زمانہ کی طرف سے غفلت کر کے کسی اور طرف توجہ کریں گے تو ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا بھی یہ سلوک ہو گا کہ ان کی طرف سے منہ پھیرلے گا اور جب بھی وہ اس کو چھوڑ کر دنیا کی طرف متوجہ ہوں گئے تکلیف اور نقصان اٹھائیں گے۔دوسروں کے ساتھ یہ معاملہ نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ تو پہلے ہی سچے مذہب پر نہیں ہیں اگر وہ اپنے مذہب سے غفلت کریں تو اس سے سچائی کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔پس اس وقت کی آفات سے بچنے کا علاج یہی ہے کہ پکے مسلمان بن جاؤ تا خدا تعالی تمہارا بن جائے اور ہر موقع پر تمہاری حفاظت فرمائے اور ہر جگہ اپنی مدد تمہیں عطا کرے۔اتحاد بین المسلمين دوسری بات جس کی طرف میں آپ لوگوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ اتحاد بین المسلمین ہے یعنی مسلمانوں کے بے شمار فِرقوں کے درمیان اتحاد واتفاق۔مسلمان اس وقت کئی فرقوں پر تقسیم ہو چکے ہیں اور یہ فرقے آپس میں ایک دوسرے کے مخالف بلکہ دشمن ہو رہے ہیں جس سے مسلمانوں کو بحیثیت قوم نقصان پہنچ رہا ہے اور