انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 423 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 423

۴۲۳ انجمن انصار الله یہاں میں نے ایک انجمن بچوں کی بنائی ہے۔جس کانام انصار اللہ رکھا اس میں میں خود ان کو ہدایات دیتا ہوں۔چنانچہ اس کا ایک نتیجہ یہ ہوا ہے کہ بہت سے لڑکے اب تہجد پڑھنے لگے ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ تمام بیرونی جماعتوں میں بھی اس قسم کی انجمنیں بنائی جائیں جن میں بچوں کو اخلاقی تربیت کے سبق سکھائے جائیں تاکہ وہ آئندہ قوم کے بہترین افراد ثابت ہو سکیں۔مگر بہتر طریق یہی ہے کہ بچوں کو یہاں بھیجیں کیونکہ یہاں میں خود تربیت کے متعلق سبق دیتا ہوں۔ان کی تربیت کرتا ہوں۔تھوڑے دنوں میں ہی تربیت اعلی ٰ رنگ میں ہو گئی ہے۔دوست بچوں کو قادیان بھیجیں۔اگر بعض نہیں بھیج سکتے تو اپنے پاس ہی ان کی تربیت کریں۔خدا کا قرب حاصل کرنے کیلئے بڑی قربانیوں کی ضرورت ترقیات لیکچر سننے یا لیکچر دینے سے نہیں ہوا کرتی۔ترقیات کام کرنے سے ہوا کرتی ہیں۔سلسلہ میں داخل ہونے کی غرض محض لیکچر نہیں بلکہ دین کی خدمت اور قرب الہٰی کا حاصل کرنا ہے۔دوست دین کی خدمت کریں۔کچھ کام کریں اور قرب الہٰی کو حاصل کریں اور قرب الہٰی قربانیوں سے حاصل ہوتاہے۔بڑے کاموں کے لئے بڑی اور لمبی قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔آپ لوگوں نے خدا کے فضلوں کا وارث ہونا ہے اور کیا خدا کے فضلوں کا وارث ہونا اس کا مقرب ہونا کوئی معمولی بات ہے۔اتنے بڑے فضلوں کے تم معمولی کاموں سے تو وارث نہیں ہو سکتے بلکہ بڑے فضلوں کے لئے بڑی اور لمبے عرصہ تک قربانیاں کرنی پڑیں گی۔اس وقت عام طور پر بھی قربانی چند دن چندہ دینا سمجھی جاتی ہے حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ معمولی بادشاہوں کا قرب حاصل کرنے کے لئے لوگ ساری ساری عمرمیں خدمت میں خرچ کر دیتے ہیں۔معمولی خطاب لینے کے لئے تمام عمر بڑی بڑی قربانیاں کرتے ہیں۔پھر وہ خطاب بھی کوئی حقیقت اپنے اندر نہیں رکھتا گورنمنٹ انہیں خان بہادر کا خطاب دیتی ہے۔کیا واقعہ میں وه بہادر ہو جاتا ہے۔وہ تو بعض وقت نہایت بُزدل ہوتا ہے۔اس خظاب سے بنتا کچھ نہیں۔لیکن خدا تعالی جس کو جوخطاب دیتا ہے اس کے اندر واقعہ میں یہ بات بھی پیدا کرتا ہے۔اسے واقعہ میں انعام دیتاہے خالی خطاب ہی نہیں دے چھوڑتا۔حضرت مسیح موعود ؑکے زمانہ میں ایک شخص آیا۔اس نے کہا مجھے بڑے الہام ہوتے ہیں۔حرت صاحب نے اسے فرمایا کہ جب تجھے کہاجاتاہے کہ تُو محمد ہےیا