انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 417

۴۱۷ لکھتا ہے کہ ہزاروں تعلیم یافتہ لوگوں کے دلوں میں محسوس ہو رہا ہے کہ اب ہمیں عیسائیت کو چھوڑنا پڑے گا۔اور پادریوں نے بھی ہمارے خلاف شور مچانا شروع کیا ہے یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ اسلام کو زبردست چیز خیال کرنے لگے ہیں۔کیونکہ مقابلہ کا خیال شیر کے مقابل ہی پیدا ہوتا ہے۔مٹی سے بنے ہوئے شیر کے لئے نہیں پیدا ہوتا۔ہمیشہ شیر سے ہی کوئی ڈرا کرتا ہے۔آج ایک اور خوشخبری آپ کو سناتا ہوں۔آج ہی تار آیا ہے کہ آسٹرین حکومت کا وزیر احمدی ہو گیا ہے۔اس نے اہمیت کا اعلان کر دیا ہے۔اور چھ اور انگریزوں نے اس ہفتہ میں احمدیت کا اعلان کیا ہے۔غرض اس افتتاح کے بعد ۱۳ بڑے آدمی سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں یا گویا تیره حواری ملے ہیں۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ پہلے میت کے ساتھ جو کچھ ہوا یہاں اس کے اُلٹ ہو گا اس لئے میں کہہ سکتا ہوں کہ ان تیرہ حواریوں میں یہودا اسکریو طی انشاء الله کوئی نہیں ہو گا۔اللہ تعالیٰ نے مجھے پہلے ہی بشارت دی تھی کہ میرے ولایت جانے سے اسلام کی فتوحات شروع ہوں گی۔بعض دوستوں نے کہا بھی کہ میرے وہاں جانے سے کیا ہوا۔حالانکہ اول تو جماعت نے ہی مجھے وہاں بھیجا تھا میں خود اپنے ارادہ سے ہی نہیں گیا تھا بلکہ مجھے تو خواب میں بعض مصائب و مشکلات بھی دکھائے گئے جو میری غیر حاضری میں ہمارے خاندان میں پیدا ہونے والے تھے۔لیکن باوجود اس کے جماعت کی کثرت رائے دیکھ کر میں وہاں گیا اور پھر میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھاکہ جماعت یہ خیال نہ کرلے کہ میرے وہاں جاتے ہی احمدی ہونا شروع ہو جائیں گے۔میں تو وہاں تبلیغ کے لئے حالات دیکھنے جاتا ہوں۔پھر بعد کے حالات سے معلوم ہوا کہ میرے وہاں جانے میں اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت تھی کہ وہ فتوحات جو میرے وہاں جانے کے نتیجہ میں اب شروع ہوئی ہیں وہ کسی اور شخص کی طرف منسوب نہ ہوں اور اسلام پر کسی خاص شخص کا احسان نہ ہو بلکہ براہ راست حضرت مسیح موعود کی طرف منسوب ہوں۔پھر میں کہتا ہوں جب نبی بھی کوئی ایسا نہیں گزرا جس نے ایک دن میں فتح حاصل کی ہو تو ایک خلیفہ کو کس طرح ایک دن میں فوجات مل سکتی ہیں۔لیکن بہرحال اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے سلسلہ ایسی ترقی کر رہا ہے کہ ایک انگریز لکھتا ہے کہ اس کی ترقی کی نظیر پچھلی صدیوں کے کسی سلسلہ میں نظر نہیں آتی۔جماعت کو نصائح اب میں دوستوں کو چند نصائح کرتا ہوں۔جب جماعتیں بڑھا کرتی ہیں تو حاسد لوگ جماعت کی ترقی کو دیکھ نہیں سکتے اور بعض لوگ کمزور دل