انوارالعلوم (جلد 9) — Page 282
۲۸۲ حق الیقین منقولات اسلاف کے نام نامی سے دھوکا کھا کر اپنی اپنی جامع و مسانید و صحاح و سنن و معاجم میں درج کر لیا ہے پس ان کے اخراج ِ و اِکاک و احراق کرنے میں اجر عظیم اور ثواب فخیم ہے“۔ہفوات صفحه ۲۔ٍ اس تحریر اور خصوصاً طرز بیان سے معلوم ہو سکتا ہے کہ مصنف ہفوات کا منشاء اس کتاب کی تصنیف سے حق جوئی اور صداقت طلبی نہیں ہے بلکہ پردہ پردہ میں آئمہ اسلام اور بزرگان دین کو گالیاں دینا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس تصنیف کے اصل مخاطب اہل حدیث صاحبان ہیں اور اگر وہی مسلک ہم اختیار کرتے جو وہ لوگ ہمارے متعلق اختیار کیا کرتے ہیں تو شاید ہمارا طریق بھی یہ ہوتا کہ ہم اس جنگ کا لطف دیکھتے اور ایک دوسرے کی فضیحت اور تحقیر کو خاموشی سے ملاحظہ کرتے لیکن چونکہ ہمارا رویہ تقویٰ پر مبنی ہے اور اسلام کی محافظت اور اس کے خزائن کی نگرانی کا کام ہمارے سپرد کیا گیا ہے اس لئے میری غیرت نے برداشت نہ کیا کہ یہ کتاب بِلا جواب کے رہے اور اسلام کے چُھپے دشمن اسلام کے ظاہری دشمنوں کے ساتھ مل کر اس کے اندر رخنہ اندازی کرنے کا کام بلا روک ٹوک کرتے چلے جائیں۔کسی مذہب کی خوبی اس کے ثمرات سے پائی جاتی ہے حضرت مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں:۔’’ہر ایک اچھا درخت اچھا پھل لاتا ہے اور بُرا درخت بُرا پھل لاتا ہے۔اچھا درخت بُرا پھل نہیں لا سکتا نہ بُرا درخت اچھا پھل لا سکتا ہے۔جو درخت اچھا پھل نہیں لاتا وه کاٹا اور آگ میں ڈالا جاتا ہے ہیں ان کے پھلوں سے تم انہیں پہچان لو گے ‘‘۔۲؎ اگر ایک شخص دنیا کی اصلاح اور اس کے درست کرنے لئے مامور ہونے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن اس کی سب کوششیں اکارت جاتی ہیں اور وہ ایک ایسی جماعت چھوڑ جاتا ہے جو بے دین اور منافق اور خدا سے دور ہوتی ہے تو یقیناً اس کا دعویٰ باطل ہے کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ایک شخص کو اللہ تعالیٰ ایک کام کے لئے بھیجے اور وہ اس کام میں ناکام ہو اس کی تربیت یافتہ اور صحبت سے مستفیض ہونے والی جماعت کا بیشتر حصہ اس کے اثر سے متاثر ہونا چاہئے اور اس کی تعلیم کا حامل اور عامل ہونا چاہئے ورنہ اس کی آمد فضول اور اس کی بعثت عبث ہو جاتی ہے۔اسی طرح یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ایک نیک اور پاک جماعت کی تربیت کے ماتحت ایک ایسی جماعت پیدا ہو جائے جو بِلاتدریج شرارت اور فتنہ کا مجسم نمونہ بن جائے۔ہمیشہ خرابی آہستگی سے پیدا ہوتی ہے جس قدر