انوارالعلوم (جلد 9) — Page 240
۲۴۰ کے پاس جاتا ہے۔وہ بہت کمزور ہوتا ہے۔کوئی کام نہیں کر سکتا۔اُسے کہا جاتا ہے ورزش کیا کرو اب کیا وہ یہ کہتا ہے کہ مَیں تو پہلے ہی کام نہیں کر سکتا اور آپ کہتے ہیں ورزش کیا کرو۔وہ یہ نہیں کہتا کیونکہ اور کام میں اور ڈاکٹر کے بتائے ہوئے کام میں فرق ہے۔اور وہ یہ کہ جو کچھ ڈاکٹر بتاتا ہے گو وہ بھی کام ہے مگر ہے اختیار میں اور دوسرااس کی طاقت سے بڑھ کر ہے۔تو طاقت پیدا کرنے کے لئے بھی ایک عمل ہی کی ضرورت ہوتی ہے۔ایک ایسا کمزور جو اُٹھ کر کھڑا بھی نہیں ہو سکتا۔چار پائی پر لیٹا رہتا ہے۔اس کے متعلق ڈاکٹر یہی کہے گا کہ اِسے مالش کیا کرو۔جب اسے کچھ طاقت آئیگی تو بیٹھ سکیگا۔پھر اور طاقت آئیگی تو کھڑا ہو سکے گا۔یہی بات روحانی اعمال میں ہے کہ چھوٹے اعمال پر لگا کر اوپر اٹھایا جاتا ہے۔ایک لڑکا جو کہتا ہو کہ مجھ سے دسویں جماعت کی ریڈر نہیں پڑھی جاتی اُسے کہا جائیگااچھا نویں جماعت کی پڑھا کرو۔اس کے متعلق وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ جب مجھ سے دسویں جماعت کی ریڈر نہیں پڑھی جا سکتی تو نویں کی کس طرح پڑھوں گا۔اِسی طرح روحانیت میں چھوٹے اعمال سے ترقی کرکے بڑے اعمال تک لے جایا جاتا ہے۔پہلے بیان شدہ علاجوں کے علاوہ ایسے شخص کے لئے بعض اور امور کی بھی ضرورت ہوتی ہے جنہیں میں آگے چل کر بیان کرونگا۔پہلے علاج یہ ہیں:- (۱) یہ کہ ایسا انسان نیکیوں اور بدیوں کا علم حاصل کرے۔(۲) ان کے برمحل استعمال کا علم حاصل کرے۔(۳) محاسبۂ نفس کرے۔(۴) استغفار کثرت سے کرے۔(۵) خدا تعالیٰ کی معرفت پیدا کرنے کی کوشش کرے۔پہلے مَیں نے کہا تھا خدا کی معرفت پیدا کرے۔مگر یہاں یہ کہتا ہوں کہ معرفت پیدا کرنیکی کوشش کرے۔کیونکہ اسکی نسبت یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ یہ عمل پر پوری طاقت نہیں رکھتا۔(۶) نیکی اور بدی کا انجام سوچے۔(۷) تَخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللّٰہِ کی کوشش کرے۔اِس سے آگے میں جو علاج بتاؤنگا وہ اصولی ہیں۔ایسے انسان کے متعلق اس بات میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ اس کے اندر بیماری ہے۔اور بیماری کا علاج بغیر تشخیص کے نہیں ہو سکتا۔اس لئے