انوارالعلوم (جلد 9) — Page 172
۱۷۲ منہاج الطالبین اب مَیں وہ مضمون شروع کرتا ہوں جس کے متعلق مَیں پہلے اشارہ کر چکا ہوں۔میرے دل میں مدّت سے یہ خواہش تھی کہ یہ مضمون بیان کروں۔یہ ایسا اہم مضمون ہے کہ ہر انسان کے دل میں اس کے متعلق سوال پیدا ہوتا ہے اور بے شمار لوگوں نے اسکے متعلق مجھ سے پوچھا ہے اور اسکے بارے میں نسخہ دریافت کیا ہے۔وہ سوال یہ ہے کہ وہ کونسے ذرائع ہیں جن پر عمل کرکے انسان گناہوں سے پاک ہو جائے اور نفس میں نیکیاں پیدا ہو جائیں۔عام طور پر اس کا یہ جواب دیا جاتا ہے کہ نیکی کرو، نیکی کرو اور گناہوں سے بچو، گناہوں سے بچو۔لیکن جیسا کہ ہر ایک شخص کے تجربہ میں آیا ہے بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے قرآن کریم کو پڑھا، احادیث کو پڑھا، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتابوں کو پڑھا اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کی۔مگر ہم کلی طور پر نہیں بچ سکے، نیکی کرنے کے لئے ہم نے کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے۔اب بتائو ہمارا کیا علاج ہے۔اسلئے ضروری ہے کہ اس نقطہ سے بحث کی جائے کہ کس طرح انسان کی اس کمزوری کو دور کیا جائے کہ وہ باوجود ارادہ اور کوشش کے گناہوں سے بچنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔جب مَیں نے اِس مضمون کے متعلق نوٹ لکھنے شروع کئے تو خیال کرکے کہ یہ مضمون عرفانِ الٰہی کے مضمون کے بعض حصّوں سے ٹکرائیگا۔اس تقریر کا مطالعہ کیا۔اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ مَیں نے اس تقریر میں وعدہ کیا ہوا تھا کہ یہ مضمون بیان کرونگا۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اب مَیں اس وعدہ کو پورا کرنے لگا ہوں۔پھر جب مَیں اس مضمون پر غور کرنے لگا تو ایک پُرانی اور بہت پُرانی رؤیا مجھے یاد آگئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کے ایک آدھ ماہ بعد مَیں نے یہ رؤیا دیکھی تھی۔اور اسوقت اس کی کوئی تعبیر نہ سوجھتی تھی۔رؤیا یہ تھی کہ ایک مصلّٰی ہے جس پر مَیں نماز پڑھ کے بیٹھا ہوں۔میرے ہاتھ میں ایک کتاب ہے جس کے متعلق مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ شیخ عبد القادر صاحب جیلانی کی ہے اور اس کا نام منہاج الطالبین ہے یعنی خدا تعالیٰ تک پہنچنے والوں کا رستہ۔مَیں نے اس کتاب کو پڑھ کر رکھ دیا کہ پھر یکدم خیال آیا کہ یہ کتاب حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ کو دینی ہے اسلئے مَیں اسے ڈھونڈنے لگا ہوں مگر وہ ملتی نہیں۔ہاں اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے ایک اَور کتاب مل گئی۔اس وقت میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہو گئے۔ومایعلم جنود ربّک الّا ھو اور تیرے رب کے لشکروں کو سوائے اُسکے اور کوئی نہیں جانتا۔اس کے بعد مَیں نے اس خیال سے کہ اگر شیخ عبد القادر صاحب جیلانی کی کوئی کتاب اس نام