انوارالعلوم (جلد 8) — Page 57
۵۷ ابرایم جھوٹا تھا۔ایک دفعہ اس نے اپنی بیوی کو بہن کہا، ایک دفعہ بیمار نہ تھا مگر بحث سے جان چھڑانے کے لئے کہہ دیا کہ میں بیمار ہوں۔پس یہ لوگ اگر حضرت ابراہیم علیہ الصلوة والسلام کو ابو الانبیاء کہہ کر جھوٹا کہتے ہیں تو حضرت مرزا صاحب کو جھوٹا سمجھتے ہوئے جھوٹا کہیں تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔پھر یہ لوگ کہتے ہیں حضرت یوسف نے چوری کی تھی اور ان کی چوریاں گناتے ہیں پھر کہتے ہیں حضرت یوسف علیہ السلام بد کاری میں مبتلا ہوئے مگر حضرت یعقوب نے ہٹالیا۔پس اگر حضرت یوسف کو نبی مان کر یہ لوگ چور اور بد کار کہتے ہیں تو اس کو جسے جھوٹا کہتے ہیں ان کے برا بھلا کہنے پر کیا تعجب ہے۔پھر یہ لوگ حضرت موسیٰؑ کو خدا کانبی مانتے ہیں مگر باوجود اس کے تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ نے جانتے بوجھتے ایک ناحق قتل کیا تھا۔پس اگر یہ لوگ حضرت موسیٰ کو خدا کا نبی مانتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے بلاوجہ قتل کیا تھاتو پھر اگر یہ کہیں کہ مرزا صاحب نے لیکھرام کو مروا دیا تو افسوس کی کیا وجہ ہے۔غرض انہوں نے ان بزرگوں کی جن کا ادب کرنے کا یہ دعویٰ کرتے ہیں پگڑیوں پر بھی ہاتھ مارتے ہیں پھر جن کو یہ جھوٹا کہیں وہ اِن سے کیو نکر بچ سکتے ہیں۔تم میں سے بُہتوں کے چہرے یہ سن کر سرخ ہو گئے کہ انہوں نے کہا مرزا صاحب عورتوں کے پیچھے پھرتے رہے مگر حضرت داؤد علیہ السلام جن کو یہ نبی مانتے ہیں ان کےمتعلق کہتے ہیں کہ وہ عورت کے پیچھے پڑا رہا اور اس کے خاوند کو دھوکا سے جنگ پر بھیج کر مروادیا۔ان باتوں سے ان کی تفسیریں اور روایتیں بکھری پڑی ہیں۔پس اگر یہ لوگ حضرت داؤد کو ایک بے گناہ کا قاتل اور اس کی عورت کا عاشق اور عورت چھین لینے والا کہتے ہیں تو حضرت مرزا صاحب کو اگر انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کے پیچھے پھرتے رہے تو کونسی بڑی بات ہے پھر میں دیکھتا ہوں کہ تم میں سے بہت اس لئے ناراض ہوئے کہ مخالف کہتے ہیں مسیح موعود دنیا کے پیچھے پڑا رہا لیکن ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت سلیمان نبی تھے اور پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ ایک دفعہ وہ گھوڑے دیکھتے رہے اور نماز چھوڑ دی۔پس اگر حضرت سلیمان کو نبی مان کر دنیا کے پیچھے پڑا رہنے والا کہہ سکتے ہیں تو حضرت مرزا صاحب کو جھوٹا کہہ کر یہ کہیں تو کیا تعجب ہے۔پھر یہ لوگ جس کو خاتم الانبیاء کہتے ہیں اور جس کی عزت کا جھوٹا دعویٰ کر کے ہمارے ساتھ لڑنے کے لئے آتے ہیں دیکھو اس کے متعلق کیااندھیر مچاتے ہیں ان کے بڑے بڑے یہ مانتے چلے آئے ہیں کہ ایک دفعہ رسول کریم ﷺکی خواہش ہوئی کہ کافروں کو خوش کریں یہ شیطانی