انوارالعلوم (جلد 8) — Page 638
۶۳۸ کے اندر پوشیده نتیوں سے واقف ہے وہ کونوں میں چُھپ کر اندھیرے میں کئے جانے والے کاموں سے آگاہ ہے اس کی نگاہ جس طرح اس شخص کے کاموں پر پڑتی ہے جو کروڑوں آدمیوں کے سامنے کوئی کام کرتا ہے اسی طرح اس کے کاموں پر بھی ہوتی ہے جو خلوص دل اور پاک نیت سے گوشہ تنہائی میں بیٹھ کر کرتا ہے اور وہ ہستی موازنہ کرنا جانتی ہے۔حضرت مسیح موعودؑ فرمایا کرتے تھے خداتعالی کی نظر مقدار پر نہیں بلکہ اخلاص پر ہوتی ہے۔ایک امیر جس کے پاس کروڑ روپیہ ہے اگر دس ہزار روپیہ خدا کی راہ میں دیتا ہے اور ایک غریب جس کے پاس دس روپے ہیں پانچ خدا کے لئے دے دیتا ہے توگو انسانوں کی نظر میں دس ہزار روپے زیادہ ہیں مگر خدا کی نظر میں پانچ روپے زیادہ ہوں گے کیونکہ پانچ روپے دینے والے نے اپنا آدھامال دے دیا۔آپ لوگوں کو میں جو کچھ اس وقت کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اس بات کو دیکھ کر کہ ہم لوگ جو کام کرتے ہیں وہ پوشیدہ اور مخفی رہنے والے کام ہیں اور لوگوں کی نظروں کے سامنے نہیں آتے کسی قسم کی کو تاہی اور سستی سے کام نہیں لینا چاہئے۔کیونکہ جس ذات سے ہمارا تعلق ہے اس پر جس طرح بڑے لوگوں کا اور مختلف صیغوں کے نا ظروں کا کام ظاہر ہے اسی طرح تمہارا بھی ظاہر ہے اور وہ موازنہ جانتا ہے۔پھر بہت چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو کھری سمجھی جاتی ہیں مگر کھوٹی ہوتی ہیں۔اور بات ایسی ہوتی ہیں جو کھوٹی کہی جاتی ہیں مگر کھری ہو تی ہیں۔پس تم اپنے کاموں میں خلوص اور نیتوں میں پاکیزگی پیدا کرو۔ممکن ہے تم میں سے کسی کے کام کے نتیجہ میں جسے وہ گوشہ تنہائی میں بیٹھ کر کرے اور جسے کسی نے نہ دیکھا ہو اسلام کی آخری قتح حاصل ہو۔فرض کرو اسلام کی کامیابی کے لئے دس کروڑ اور ایک نمبر کی ضرورت ہے۔دس کروڑ ور تو باقی جماعت نے حاصل کر لئے اور ایک شخص نے ایک نمبر حاصل کیا۔اب کیا یہ ایک نمبر حقارت کی نظر سے دیکھا جائے گا۔ہرگز نہیں کیونکہ کامیابی کے لئے ایک کروڑ نمبر کافی نہ تھے بلکہ ایک کروڑ ایک نمبر کی ضرورت تھی اور اس وجہ سے کامیابی کا سہرا اس ایک نمبر حاصل کرنے والے کے سر ہو گا کیونکہ اگر وہ نہ ہوتا تو کامیابی نہ ہوتی۔پس تم لوگ اپنے کاموں میں اخلاص اور نیتوں میں پاکیزگی اختیار کرو اور یہ کبھی خیال نہ کرو کہ لوگ تمہارے کاموں کو دیکھتے ہیں یا انہیں سب کا معاملہ خدا تعالی سے ہے اور کوئی اس سے پوشیدہ نہیں ہوگی۔جس نیت اور جس اخلاص سے کوئی کام کیا ہو گا اس کا بدلہ ویساہی ملے گا اور کسی کی محنت ضائع نہ جائے گی اس لئے افسردگی کی کوئی وجہ نہیں اور لوگوں کی بے توّجہگی کا کوئی اثر نہیں ہونا چاہئے۔میں سمجھتا ہوں اس سے زیادہ کہنے کی اس وقت مجھ میں