انوارالعلوم (جلد 8) — Page 595
۵۹۵ گے بظاہر ایک فعل ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ محبت کا رنگ نہیں رکھتا لیکن حقیقت میں وہ محبت ہوگا۔اسلام اس تمام حقیقت کو اپنی اخلاقی تعلیم کے اندر رکھے گا۔مثلاً آنحضرت ﷺنے فرمایا کہ اپنے بھائی کی ظالم ہو یا مظلوم مدد کرو۔صحابہ نے پوچھا کہ مظلوم کی تو مدد ہو سکتی ہے ظالم کی کس طرح کریں فرمایا کہ اس کو ظلم سے روک دو۔اب ظالم کے ساتھ محبت کا طریق الگ ہو گا۔غرض ہر اخلاقی تعلیم کی تفاصیل میں جب ہم جانتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے جو تعلیم دی ہے وہ سب مذاہب کی تعلیم کے مقابلہ میں معقول اور مکمل ہے۔اسلام یہی بتائے گا کہ کسی بُرے کام سے محبت نہ کرو۔اخلاقی تعلیم لیڈی:- میں نے کسی مذہب میں نہیں سنا کہ ہر چیز سے خواہ بُری ہو یا اچھی محبت کرو۔بلکہ اچھی باتوں سے محبت کرو ہی کی تعلیم ہے۔حضرت صاحب:- یہ سواۓ اسلام کے کہیں نہیں ملے گا۔یہ تفصیل چاہتا ہے میں مختلف مذاہب کی تعلیمات بتا سکتا ہوں کہ ان میں کس طرح پر ان باتوں کو داخلِ اخلاق کیا گیا ہے جو نہایت شرمناک ہیں بلکہ ان کو نجات کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔میں دعویٰ سے یہ بات کہتا ہوں کہ اسلام کے سوا اخلاقی تعلیم کو کامل طور پر کسی مذہب نے بیان نہیں کیا۔کیا انجیل میں ہے؟ لیڈی:۔مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہرمذ ہب میں ہے۔حضرت صاحب:- خیال سے کچھ نہیں ہوتا۔یہاں خیالی طور پر کسی بات کے پیش کرنے سے کچھ نہیں بنتا واقعات بیان کرنے چاہئیں۔یہ جُد ا بات ہے کہ جب قرآن کریم نے کوئی امر بیان کیاتو دو سرا بھی کہہ دے کہ ہاں یہی ہے۔مگر اسے اپنی کتاب سے اسی طریق پر پیش کرنا چاہئے۔مثلا ًبہائی لوگ بعض باتیں پیش کرتے ہیں جب ہم نے ان کو بتایا کہ یہ مغربی خیالات کا اتباع ہے تو وہ یہ اقرار نہیں کرتے کہ وہاں سے لیا ہے اپناذاتی خیال کہہ دیتے ہیں۔اسی طرح قرآن کریم نے جب اخلاقی تصریحات کو مکمل طور پر پیش کر دیا تو بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے مذہب میں یہ بات ہے لیکن جب ان سے پوچھا جاوے کہ دکھاؤ کہاں بیان کیا ہے تو پھر چُپ ہو نا پڑتا ہے۔اسی طرح میں آپ سے کہتا ہوں کہ آپ انجیل یا بائبل سے نکال کر دکھائیں۔میں مثال کے طور پر انجیل کی ایک تعلیم پیش کرتا ہوں۔انجیل کہتی ہے کہ اگر کوئی ایک گال پر طمانچہ مارے تو دوسری بھی پھیردو۷۱؎ بظاہر یہ بڑی خوبصورت تعلیم معلوم ہوتی ہے لیکن جب علم النفس پر غور کیا جاوے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ تعلیم ناقابل عمل ہے اور اس سے ہمیشہ