انوارالعلوم (جلد 8) — Page 563
۵۶۳ بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ و نصلی على رسولہ الكريم لندن مشن کے متعلق ہدایات (۴ - اکتوبر ۱۹۲۴ء حضرت صاحب چند خدام کے ساتھ مولوی عبدالرحیم صاحب د رد ایم اے کو لندن مشن کی چابی عطاء فرمانے کیلئے ازراہ ِشفقت خود پٹنی تشریف لے گئے۔پٹنی پہنچنے پر آپ نے لمبی دعا کروائی اور دعا کے بعد اپنے ہاتھ سے مولوی عبدالرحیم صاحب درد کو کلید عطا فرمائی اور حسب ذیل ہدایات مبلغ ثانی کو فرمائیں۔) میاں غلام فرید صاحب! آپ نے مولوی صاحب کی اطاعت میں کام کرنا ہے ساری ترقی اور برکات اپنے افسروں کی اطاعت میں ہیں۔میں جانتا ہوں کہ طبائع میں اختلاف ہوتا ہے اور یہ قدرتی امر ہے اعلی ٰسے اعلی ٰ محبت کے تعلقات میں بھی رنج پیدا ہو جاتا ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا باوجود اس محبت کے جو ان کو آنحضرت ﷺسے تھی ایک دفعہ آپ سے ناراض ہو گئیں لیکن وہ ایسی ناراضی نہ تھی کہ اس سے نافرمانی پیدا ہوتی بلکہ ان کے اخلاص و اطاعت میں زیادتی ہی ہوتی رہی اس لئے اگر اختلاف بھی ہو تو بھی کبھی یہ نہیں ہونا چاہئے کہ ان کی نافرمانی کی جاوے بلکہ محبت کے ساتھ اس کام کو کرنا چاہئے جو وہ سپرد کریں کیونکہ یہ کام خدا کا کام ہے نہ کسی انسان کا۔دوسری بات یہ ہے کہ اطاعت کامل نہیں ہوتی جب تک اس میں نشاط نہ ہو خداتعالی نے مومنین کی صفات میں یہ فرمایا ہے۔لايجدوا في أنفهه جا تا ثيت ۶۲؎ یعنی آنحضرت ﷺکے فیصلہ پر وہ راضی ہو تے ہیں اور اس فیصلہ پر ان کے قلب میں کوئی تنگی نہیں پیدا ہوتی بلکہ وہ خوشی اور نشاط کے ساتھ اسے تسلیم کرتے ہیں۔یہ اصول بتادیا ہے کہ مسلمانوں کو اپنی زندگی میں اپنے افسروں کی اطاعت کس طرح کرنی چاہئے کہ اس اطاعت میں نشاط ہو۔تسلیم کامل جب ہی ہوتی ہے جبکہ اطاعت کے ساتھ نشاط اور شرح صدر ہو اور یہ بات ایمان