انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 433 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 433

۴۳۳ دوره یو رپ جماعت کے لئے انذار اگر میں زندہ رہا تو میں انشاءالله اس علم سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کروں گا۔اگر میں اس جدوجہد میں مر گیا تو اےقوم! میں ایک نذیر عُریان کی طرح تجھے متنبہ کرتا ہوں کہ اس مصیبت کو کبھی نہ بھولنا۔اسلام کی شکل کو کبھی نہ بدلنے دینا۔جس خدا نے مسیح موعود کو بھی چاہے وہ ضرور کوئی راستہ نجات کا نکال دے گا۔پس کوشش نہ چھوڑنا، نہ چھوڑنا، نہ چھوڑنا ،آہ نہ چھوڑنا۔میں کس طرح تم کو یقین دلاؤں کہ اسلام کا ہر اک حکم ناقابل تبدیل ہے، خواہ چھوٹا ہو ،خواہ بڑا۔جو چیز سنت سے ثابت ہے وہ ہرگز نہیں بدلی جاسکتی۔جو اس کو بدلتا ہے وہ اسلام کا دشمن ہے وہ اسلام کی تباہی کی پہلی بنیاد رکھتا ہے کاش وہ پیدا نہ ہو گا۔مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ تم دنیا کے حالات سے آنکھیں بند کر لو اور بعض نادانوں کی طرح کہہ دو کہ پھر یورپ کی تبلیغ پر لاکھوں روپیہ صرف کرنے کی کیا ضرورت ہے۔یورپ سب سے بڑا دشمن اسلام کا ہے۔وہ مانے نہ مانے تمهاری کوشش کا کوئی اثر ہو یا نہ ہو تم کو اسے نہیں چھوڑنا چاہئے۔اگر تم دشمن پرفتح نہیں پاسکتے تو تمہارا یہ فرض ضرور ہے کہ اس کی نقل و حرکت کو دیکھتے رہو تو وہ تمہاری غفلت سے فائدہ اٹھا کر تم پر فتح نہ پالے۔اور پھر میں کہتا ہوں کہ یہ کسی کو کس طرح معلوم ہوا کہ یورپ آخر اسلام کو قبول نہیں کرے گا۔یورپ کے لئے تو اسلام کا قبول کرنا مقدر ہو چکا ہے۔ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم دیکھیں کہ وہ ایسی صورت سے اسلام کو قبول کرے کہ اسلام ہیکو نہ بدل دے۔پس ہم اگر یورپ کو چھوڑ دیتے ہیں تو ہماری مثال اس کبوتر کی ہوگی جوبلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اب میں محفوظ ہو گیا ہوں۔یہ ہو سکتا ہے کہ ہم کو جب تک صحیح راستہ معلوم نہ ہو ان لوگوں کے مسلمان بنانے پر زیادہ زور نہ دیں۔مگر یورپ میں ایسے مشن رکھنے جو ہر وقت حالات کو تاڑتے رہیں اور موقع کے منتظر رہیں نہایت ضروری ہے۔قرآن کریم حکم دیتا ہے ورابطوا ہمیشہ دشمن کی سرحد پر اپنے آدمی رکھو جو ان کی نقل و حرکت کو دیکھتے ہیں۔جس دن مسلمانوں نے اس حکم سے غفلت کی اسی دن سے وہ تباہ ہونے لگے اور اگر تم بھی روپیہ کے خرچ سے ڈر کر یا کسی اور سبب سے ایسا کرو گے تو تم بھی تباہ ہو گئے۔خداتم کو بچائے اور تمہار احافظ و ناصر ہو۔مسیح موعود ؑکے قائم مقام کے سفریورپ کا ذکر قرآن میں میں آخر میں اسی امر کے بیان کرنے