انوارالعلوم (جلد 8) — Page 338
۳۳۸ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (التحريم:9) مومنوں کا نور بعد الموت ان کے آگے آگے چلے گا اور دائیں بھی چلے گا اور کہتے جائیں گے کہ خدایا ہمارے نور کو مکمل کر اور ہماری موجودہ کمزوریوں کو دور کر۔تُو ہر ایک چیز پر قادر ہے۔یعنی برابر مومن آگے کو ترقی کرتا چلا جائے گا اور نئے نئے مدارج اس کو نظر آئیں گے جن کے حصول کے لئے وہ کوشش اور خواہش کرے گا۔اسی طرح قرآن کریم میں اللہ تعالیٰٰ فرماتا ہے لَا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌ (الحجر:49) مومنوں کو وہاں تھکان نہیں ہو گی۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کام تو ہو گا مگر اس کے نتیجہ میں تھکان اور ملال پیدا نہیں ہو گا اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ () ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً () فَادْخُلِي فِي عِبَادِي () وَادْخُلِي جَنَّتِی (الفجر:28-31) اے نفس! جو میری ذات کے متعلق مطمئن ہو گیا اور جس کے دل میں میری نسبت کوئی شک نہیں رہا۔اب تُو اپنے رب کی طرف لوٹ اس طرح کہ تو اپنے رب سے خوش ہے اور تیرا رب تجھ سے خوش ہے پس اب تُو میرے غلاموں میں داخل ہو جا اور میرا غلام بن کر اس مقام میں داخل ہو جا جو میرے سائے کے نیچے آیا ہوا ہے یعنی خدا تعالیٰ کی صفات کاملہ کا اس مقام پر کام پرتَو پڑتا ہے اس آیت سے ظاہر ہے کہ گو بندہ اس دنیا میں بھی کام کرتا ہے مگر اصل کام کا زمانہ بعد الموت کا ہے۔مومن کامل غلام اسی وقت بنتا ہے کیونکہ اسی وقت اس کو اللہ تعالیٰٰ کی صفات کو اپنے اندر جذب کرنے کا پورا موقع ملتا ہے پس وہاں کام زیادہ ہو گا نہ کہ بند ہو جائے گا۔رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں یلھمون التسبیح و التحمید جنت میں مومنوں کو نئی نئی تسبیحیں اور تکبیریں الہام کی جائیں گی۔اس سے یہ مراد نہیں ہو سکتی کہ نئے الفاظ میں خدا کی تسبیح اور تکبیر سکھائی جائے گی۔کیونکہ یہ کام تو انسان خود بھی کرتا رہتا ہے۔بلکہ اس سے یہ مراد ہے کہ خدا تعالیٰ کی پاکیزگی اور اس کی بڑائی پر دلالت کرنے والی صفات اس کو الہام سے بتائی جائیں گی تاکہ وہ کوشش کر کے ان صفات کا بھی مظہر بنے۔شاید کسی کو یہ خیال گزرے کہ نئی صفات کونسی ہوں گی؟ کیا اب وہ صفات معلوم نہیں؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ انسان اسی قدر علم حاصل کر سکتا ہے جس قدر کہ اس کے حواس اس کو سکھا سکتے ہیں اس لئے ہمارے موجودہ علم ہمارے حواس تک محدود ہیں پس ان علموں کی نسبت یہی کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ حوا س کو مدنظر رکھ کر یہ علوم کامل ہیں مگر جب نئے حواس انسان