انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 214

۲۱۴ کون ہے؟ اور اس کی صفت مالکیت کے ظہور کے لئے کس کو بھیجا گیا ہے؟ یہ چیلنج ڈاکٹر الیگزنڈر ڈوئی کو بھیجنے کے علاوہ امریکہ اور انگلستان کے اکثر اخباروں کو بھی بھیجا گیا تھا جس کا ایک فقرہ یہ تھا۔میں عمر میں ستّر برس کے قریب ہوں اور ڈوئی جیسا کہ وہ بیان کرتا ہے پچاس برس کا جوان ہے (اور اس طرح میرے مقابلہ میں نسبتاً جوان ہے) لیکن میں نے اپنی بڑی عمر کی کچھ پرواہ نہیں کی کیونکہ اس مباہلہ کا فیصلہ عمروں کی حکومت سے نہیں ہو گا بلکہ خدا جو (زمین و آسمان کا بادشاہ اور) احکم الحاکمین ہے وہ اس کا فیصلہ کرے گا اور وہ صرف سچے مدعی کے حق میں فیصلہ کرے گا ……… خواہ وہ اس موت سے جو اس کا انتظار کر رہی ہے کتنا ہی بھاگنے کی کوشش کرے مگر اس کا بھاگنا بھی اس کے لئے موت سے کم نہیں اور آفت اس کے زائن پر ضرور نازل ہو گی کیونکہ اسے یا تو اس مقابلہ کے نتائج برداشت کرنے ہوں گے یا اس مقابلہ سے انکا رکے نتائج بھگتنے ہوں گے۔اس مضمون کو کثرت سے امریکن اخبارات نے شائع کیا جن میں سے تیس اخبارات کی کاپیاں ہمیں ملی ہیں ممکن ہے کہ ان کے علاوہ اور اخبارات میں بھی اس کا ذکر ہو۔ان میں سے بعض نے اپنی رائے بھی لکھی کہ ہمارے نزدیک یہ طریق فیصلہ انصاف پر مبنی ہے اور معقول ہے مؤخر الذکر اخبارات میں سے ایک سان فرانسسکو کا اخبار "گوناٹ" بھی ہے یہ چیلنج 1902ء کو دیا گیا تھا مگر ڈاکٹر ڈوئی نے اس کی طر ف کوئی توجہ نہ کی۔پھر 1903ء میں اس چیلنج کو دہرایا گیا اور آخر امریکہ میں ہی اس کے خلاف یہ آواز اٹھائی گئی کہ وہ جواب کیوں نہیں دیتا۔وہ خود اپنے اخبار کے دسمبر 1903ء کے پرچہ میں اس امر کا یوں اقرار کرتا ہے۔"ہندوستان میں ایک بیوقوف محمدی مسیح ہے جو مجھے بار بار لکھتا ے کہ مسیح یسوع کی قبر کشمیر میں ہے او رلوگ مجھے کہتے ہیں کہ تو اس کا جواب کیوں نہیں دیتا؟ مگر کیا تم خیال کرتے ہو کہ میں ان مچھروں اور مکھیوں کا جواب دوں گا۔اگر میں ان پر اپنا پاؤں رکھوں تو میں ان کو کچل کر مار ڈالوں گا۔(میں ان کو موقع دیتا ہوں کہ وہ اُڑ جائیں اور زندہ رہیں) مگر جیسا کہ لکھا گیا تھا کہ اگر وہ مقابلہ پر آئے گا تو بہت جلد ہلاک ہو گا مگر بھاگے گا تو بھی وہ آفت سے نہیں بچے گا اور اس کے صیحون پر جلد تر ایک آفت آئے گی اور ایسا ہی ہوا خدا نے