انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 130

۱۳۰ قرآن شریف کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہو سکتے اور جس طرح صحیفہ فطرت کے عجائبات و غرائب خواص کسی پہلے زمانہ تک ختم نہیں ہو چکے بلکہ جدید در جدید پیدا ہوتے جاتے ہیں یہی حال ان صحف مطہرہ کا ہے تا خدا تعالیٰ کے قول اور فعل میں مطابقت ثابت ہو۔" یہ وہ نکتہ عظیمہ ہے جسے حضرت مسیح موعود نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔مسلمان یہ تو خیال کرتے تھے کہ قرآن کریم کامل ہے لیکن تیرہ سو سال تک ان کے ذہن اس طرف نہیں گئے کہ وہ صرف کامل ہی نہیں بلکہ ایک خزانہ ہے جس میں آئندہ زمانوں کی ضروریات کے سامان بھی مخفی رکھے گئے ہیں اور اس کی تحقیق اور تجسس سے بھی اسی طرح بلکہ اس سے بڑھ کر علوم نکلیں گے جس طرح کہ نیچر پر غور کرنے سے علوم نکلتے ہیں۔بانی سلسلہ احمدیہ نے اس نکتہ کے پیش کرنے سے روحانی عالم میں ایجاد کا ایک وسیع دروازہ کھول دیا ہے جس کا مقابلہ علوم سائنس کی دریافت نہیں کر سکتی۔بانی سلسلہ احمدیہ نے یہ نہیں کیا کہ ان مسائل کو جو مرور زمانہ سے بگڑ چکے تھے پھر اصلی صورت میں دنیا کے سامنے پیش کیا بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ انہوں نے قرآن کریم کو ایسی شکل میں دنیا کےسامنے پیش کیا کہ اس کی تمام وہ ضروریات ذہنی اور علمی جو اس وقت کے متغیر حالات کے سبب سے پیدا ہو رہی تھیں قرآن کریم سے پوری ہو گئیں اور آئندہ کے لئے بھی تمام مشکلات کے حل کی کنجی مل گئی۔اس میں کیا شک ہے کہ دنیا اس وقت بعض صداقتوں اور بعض تمدنی مشکلات کے حل کے لئے پیاسے کی طرح حیران پھر رہی ہے۔حتیٰ کہ بعض لوگ مذہبی کتب میں ان مشکلات کا حل نہ پا کر ان کتب سے ہی بیزار ہو گئے ہیں اور بعض لوگ نئی شریعتوں کے بنانے کی طرف مائل ہیں اور دنیا کی مصیبت کو اور بھی زیادہ کر رہے ہیں۔لیکن جیسا کہ آپ لوگوں پر ابھی ظاہر ہو جائے گا ان تمام مشکلات کا حل اس تعلیم میں موجود ہے جو بانی سلسلہ احمدیہ نے دنیا کے سامنے پیش کی ہے۔وہ بیشک قرآن کریم میں موجود تھی مگر اس کے ایک حصہ کی تو یہ حالت تھی کہ جیسے صاف پانی میں کوئی باہر کی ناپسندیدہ آلائش شامل ہو جائے اور بعض حصہ کی یہ حالت تھی جیسے زیر زمین چشمہ بہہ رہا ہو لیکن ہمیں معلوم نہ ہو کہ یہاں پانی ہے آپ نے آمیزش والے پانی کو چھان کر صاف کیا اور زیر زمین چشمہ کا ہمیں پتہ دیا اور ہمیشہ کے لئے ہماری آنکھوں پر سے پردہ اٹھا دیا اور تحقیق اور انکشاف کا ایک وسیع دروازہ کھول دیا مگر اس حد بندی کے ساتھ کہ اسلام کی وہ شکل بھی جو