انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 86

۸۶ کہ جس اخلاص کے ساتھ یہ مشورہ دیا گیا ہے اسی اخلاص سے آپ لوگ اس پر غور فرمائیں گے۔اسے احبّاءِ کرام ! اس وقت جن سوالوں پر آپ لوگ جمع ہوئے ہیں ان میں سے اہم سوال مسلمانوں کے قومی حقوق کی نگرانی اور ہندو مسلم اتحاد کے سوال ہیں اور انہی سوالوں کے متعلق میں اپنے مشورہ کو محدود رکھنا چاہتا ہوں۔ٍپہلا سوال یہ ہے کہ مسلمان بحیثیت قوم کس طرح محفوظ رہ سکتے ہیں اور ملک کی سیاست میں اپنے طبعی مقام کو کس طرح قائم رکھ سکتے ہیں؟ میرے نزدیک اس سوال کا جواب سوچنے کے لئے ہمیں بہت غور کی ضرورت نہیں دنیا کی اقوام پر ایک سرسری نگاہ ڈال کر ہم اس امر کو بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ کسی قوم کے اپنے مقام پر رہنے کی صرف ایک صورت ہوتی ہے اور وہ یہ کہ وہ اپنے آپ کو خود قائم رکھے۔وہ قوم جو اپنے وجود کو خود مٹاتی ہے اس کا ہرگز حق نہیں کہ وہ زندہ رہے اور وہ ہرگز زندہ نہیں رہ سکتی۔پس اگر آپ لوگ اپنی جداگانہ ہستی کو قائم رکھنا چاہتے ہیں تو آپ کے لئے ضروری ہے کہ اپنی حیثیت کے قیام کی خود فکر کریں اور اپنی ذات کو اس طرح نہ مٹنے دیں کہ آپ کا وجود اور عدم برابر ہو جائے۔میرے نزدیک مسلمانوں کی پچھلی تباہی کا بڑا موجب ہی ان کی جداگانہ ہستی کا فقدان تھا اور میں برابر چار سال سے ان کو اس امر کی طرف توجہ دلا رہا ہوں مگر افسوس کہ ان کو اس وقت آکر توجہ ہوئی ہے جب وہ بہت کچھ کھو چکے ہیں۔ایک ایسے ملک کی مثال جس میں کئی قو میں بستی ہیں ایسی عمارت کی ہے جسے بہت سے پتھر کی سِلوں سے بنایا گیا ہو۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مکان اصل ہے لیکن اس مکان کا قیام بھی ان سِلوں کے قیام کے ساتھ ہے ضروری ہے کہ جس طرح سلیں آپس میں پیوستہ ہوں اسی طرح ہر ایک سِل اپنی ذات میں بھی محفوظ ہو۔اگر ایک سِل کمزور ہو جائے گی تو وہ خود تو مٹے گی ہی، مکان کو بھی نقصان پہنچائے گی پس یہ پالیسی بالکل درست نہیں کہ ملک کے اتحاد کے قیام کے لئے مسلمانوں کو اپنی الگ آرگنائزیشن کی ضرورت نہیں حالانکہ جب تک ایسی کوئی آرگنائزیشن نہ ہو گی اس وقت تک کبھی بھی مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت نہیں ہو سکے گی اور کبھی بھی وہ ملک کے لئے مفید وجود نہیں بن سکیں گے پس میرے نزدیک ایک ایسی آرگنائزیشن کا ہونا نہایت ضروری ہے خواہ اسے مسلم لیگ کے نام سے موسوم کیا جائے یا اور کسی نام سے اور میں امید کرتا ہوں کہ اس اجلاس میں آپ لوگ اس امرپر ایک متفقہ فیصلہ کر کے