انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 518 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 518

۵۱۸ علیھا فان دو بکرے ذبح کئے جاویں گے اور ہر ایک جو اس زمین پر بستا ہے فنا ہو جائے گا۔علم التعبیر کے مطابق شاۃ کی دو تعبیریں ہو سکتی ہیں` ایک تو عورتوں اور دوسرے نہایت مطیع اور فرمانبردار رعایا، چونکہ عورتوں کے معنوں کے ساتھ اگلے فقرے کا کوئی تعلق نہیں معلوم ہوتا کیونکہ عورتوں کو ذبح ہونے سے کم ہی تعلق ہوتا ہے- زیادہ تر جان دینے والے مرد ہوتے ہیں- اس لیے زیادہ تر قرین قیاس کے یہی معنے ہو سکتے ہیں کہ دو آدمی جو اپنے بادشاہ کے نہایت فرمانبردار اور مطیع ہوں گے باوجود اس کے کہ انہوں نے کوئی جرم اپنے بادشاہ کا نہ کیا ہو گا اور اس کا کوئی قانون نہ توڑا ہو گا اور سزائے قتل کے مستحق نہ ہوں گے قتل کئے جاویں گے اور اس کے بعد ملج پر ایک عام تباہی آوے گی اور ہلاکت اس میں ڈیرے ڈال لے گی- اس پیشگوئی میں گو ملک وغیرہ کا کچھ نشان نہیں دیا گیا تھا مگر اس کی عبارت سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے تھا کہ اول تو یہ واقعہ انگریزی علاقہ میں نہیں ہو گا` بلکہ کسی ایسے ملک میں ہو گا جہاں عام ملکی قانون کی اطاعت کرتے ہوئے بھی لوگوں کے غصے اور ناراضگی کے نتیجے میں انسان قتل کئے جا سکتے ہیں- دوم یہ کہ یہ مقتول ملہم کے پیروؤں میں سے ہوں گے` کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو پھر اس کو صرف دو مقتولوں کے متعلق خبر دینے کی کوئی وجہ نہ تھی- تیسری یہ بات معلوم ہوئی کہ وہ قتل ناواجب ہوگا- کسی سیاسی جرم کے متعلق نہ ہوگا` چوتھے یہ کہ اس ناواجب فعل کے بدلے میں اس ملک پر ایک عام تباہی آوے گی- یہ چاروں باتیں مل کر اے بادشاہ! اس پیشگوئی کو معمولی پیشگوئیوں سے بہت بالا کر دیتی ہیں اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ چونکہ اس میں ملک کی تعیین نہیں اس لیے یہ پیشگوئی مبہم ہے ان چاروں باتوں کا ایک یکجا طور پر پورا ہونا پیشگوئی کی عظمت کو ثابت کر دیتا ہے کیونکہ یہ چاروں باتیں اتفاقی طور پر جمع نہیں ہو سکتیں- اس پیشگوئی کے بعد قریباً بیس سال تک کوئی ایسے آثار نظر نہ آئے جن سے کہ یہ پیشگوئی پوری ہوتی معلوم ہو- مگر جب کہ قریباً بیس سال اس الہام پر گزر گئے تو ایسے سامان پیدا ہونے لگے جنہوں نے اس پیشگوئی کو حیرت انگیز طور پر پورا کر دیا` اتفاق ایسا ہوا کہ حضرت اقدسؑ مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام کی بعض کتب کوئی شخص افغانستان میں لے گیا اور وہاں خوست کے ایک عالم سید عبداللطیف صاحب کو جو حکومت افغانسان میں عزت کی نگاہ سے دیکھے