انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 336 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 336

۳۳۶ دعوة الا میر رکھتا اور آخر دس ہزار قدوسیوں سمیت اس سرزمین پر آپ ﷺچڑھ آتے جس میں سے صرف ایک جانثار کی معیت میں آپ کو نکلنا پڑا تھا - کیا قانون طبعی ایسے واقعات پیش کر سکتا ہے ہر گز نہیں - وہ تو ہمیں یہی بتاتا ہے کہ ہر ادنیٰ طاقت اعلیٰ طاقت کے مقابل پر تور دی جاتی ہے اور ہر کمزور طاقتور کے ہاتھوں ہلاک ہوتاہے - ۹ - ہم اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ مرنے کے بعد انسان پھر اٹھایا جائیگا اور اس کے اعمال کا اس سے حساب لیا جائیگا - جو اچھے اعمال کرنے والا ہوگا اس سے نیک سلوک کیا جائے گا اور جو اللہ تعالیٰٰ کے احکام کو توڑنے والا ہوگا اے سخت سزا دی جائیگی اور کوئی تدبیر نہیں جو انسان کو اس بعثت بچا سکے` خواہ اس کے جسم کو ہوا کے پرندے یا جنگل کے درندے کھا جائیں - خواہ زمین کے کیڑے اس کے ذرے ذرے کو جد کر دیں اور پھر ان کو دوسری شکلوں میں تبدیل کر دیں اور خواہ اس کی ہڈیاں تک جلا دی جائیں` وہ پھر بھی اٹھایا جائیگا اور اپنے پیدا کرنی والے کے سامنے حساب دیگا - کیونکہ اس کی قدرت کاملہ اس امر کی محتاج نہیں کہ اس کا پہلا جسم ہی موجود ہو تب ہی وہ اس کو پیدا کر سکتا ہے بلکہ اصل بات یہ ہی کہ وہ اس کے باریک سے باریک ذرہ یا لطیف حصہ روح سے بھی پھر اس کو پیدا کر سکتا ہے اور ہی گا بھی اسی طرح - جسم خاک ہو جاتے ہیں مگر ان کے باریک ذرات فنا نہیں ہوتے نہ وہ روح جو جسم انسانی میں ہوتی ہے خدا کے اذن کے بغیر فنا ہو سکتی ہے – ۱۰۔ہم یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے منکر اور اس کے دین کے مخالف اگر وہ ان کو اپنی رحمت کاملہ سے بخش نہ دے` ایک ایسے مقام پر رکھے جائیں گے جسے جہنم کہتے ہیں اور جس میں اگ اور شدید سردی کا عذاب ہوگا جس کی غرض محض تکلیف دینا نہ ہو گی بلکہ ان میں ان لوگوں کی آئندہ اصلاح مدنظر ہو گی` اس جگہ سوائے رونے پیٹنے اور دانت پیسنے کے ان کے لیے کچھ نہ ہو گا حتیٰ کہ وہ دن آجائے جب اللہ تعالیٰ کا رحم جو ہر چیز پر غالب ہے ان کو ڈھانپ لے اور یاتی على جهنم زمان ليس فيها أحد ونسيم الصباء تحرک ابوابها - کاوعدہ پورا ہو جائے۔۱۱- اور ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں پر ایمان لانے والے ہیں اور اس کے احکام پر جان و دل سے ایمان لاتے ہیں اور انکسار اور عاجزی کی راہوں پر چلتے ہیں اور بڑے ہو کر چھوٹے بنتے ہیں - اور امیر ہوکر۔