انوارالعلوم (جلد 7) — Page 258
۲۵۸ رہی ہوں اس لئے ایک نصیحت تو میں ان لوگوں کو جو نہیں جاسکے یہ کرتا ہوں کہ جانے والوں کے لئے دعائیں کرتے رہیں دوسرے آنے والوں کی مثال دیکر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ لوگ جنہوں نے ابھی تک اپنے آپ کو اس خدمت کے لئے پیش نہیں کیا۔ان میں سے کئی ایسے ہوں گے جو سمجھتے ہوں گے کہ شاید ہم یہ کام کر سکیں یا نہ۔اور خود ان میں سے بھی بعض کو یہی شک ہو گا جو واپس آگئے ہیں مگر جب وہ گئے اس وقت سے اب بہترحالت میں آئے ہیں۔اس تین ماہ کےعرصہ میں اگر وہ یہاں رہتے تو آج جو حالت ان کی ہے اس کی بجائے کیا ہوتی اس میں کوئی فرق نہ ہوتامگر آج جبکہ وہ واپس آئے ہیں۔اس حالت سے ان کی حالت بہتر ہے کیونکہ اگر نہ جاتے تو ان کی حالت یہ ہوتی کہ خدا کے وعدہ کو پورا کرنے کے منتظر ہوتے۔مگر اب ایسے ہیں کہ فمنهم من قضى نحبه ۳۰ جنہوں نے خدا کے وعدہ کو پورا کر دیا ہے اگر نہ جاتے تو ان کی حالت میں کچھ فرق نہ ہوتا۔اور اگر گئے تو دنیاوی لحاظ سے ان کا کوئی ایسا نقصان نہیں ہوا جو ناقابل تلافی ہو۔مگر جانے پر خدا تعالیٰ کی رضازائد حاصل ہو گئی جو اگر یہاں رہے تو حاصل نہ ہو سکتی۔اس بات کی طرف توجہ دلا کر میں ان لوگوں کو جو ابھی جانے کے لئے تیار نہیں ہوئے بلکہ سوچ رہے ہیں کہتا ہوں ویکھ لو جانے والوں کو کیا نقصان پہنچا کچھ بھی نہیں ہاں ثواب کے مستحق ہو گئے۔بہت لوگ ہوتے ہیں جو بزدلی اور تردّد کی وجہ سے ثواب سے محروم رہ جاتے ہیں۔وہ اسی خیال میں پڑے رہتے ہیں کہ ابھی اور سوچ لیں دیکھ لیں کیا ہوتا ہے اسی تردد میں وقت گذرجاتا ہے۔پس میں ان لوگوں کو مخاطب کر کے دوبا تیں کہتا ہوں جو گئے نہیں اور نہ جانے کیلئے تیار ہوئے ہیں مگر ہماری جماعت میں شامل ہیں۔اول یہ کہ اگر وہ کسی عذر کی وجہ سے مثلا ًخرچ نہ ہونے کی وجہ سے یا بیمار ہونے کے باعث یا کسی ایسی خد مت کے سپرد ہونے کے سبب کہ وہ بھی دین کاہی کام ہے اور اس سے فراغت نہیں ہو سکتی جو لوگ نہیں جاسکتے وہ بھی جانے والوں کے ساتھ ثواب میں شامل ہیں۔ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے داماد کو جنگ پر جانے سے اس لئے روک دیا کہ آپ کی بیٹی بیمار تھی اور اس کی خبر گیری ضروری تھی۔یہ بات اس کو شاق گذری تو آپ نے ٍفرمایا تم بھی ثواب میں ایسے ہی شریک ہو جیسے جنگ پر جانے والے ،گو یہ دنیاوی کام تھا جس کی وجہ سے اسے پیچھے رہنا پڑا لیکن چونکہ رسول الله ﷺکے حکم کے ماتحت تھا اس لئے وہ بھی ثواب میں شریک سمجھا گیا۔اسی طرح وہ لوگ جو ہمارے حکم سے رہ رہے ہیں ان کو بھی ایسا ہی ثواب ملے گا جیسا وہاں جانے والوں کو کیونکہ درحقیقت ثواب اطاعت میں ہے نہ کہ اپنی مرضی