انوارالعلوم (جلد 7) — Page 224
۲۲۴ تحریک شدھی ملکانا بسم الله الرحمن الرجيم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکريم نمائندگان مجلس مشاورت سے خطاب (فرموده یکم اپریل ۱۹۲۳ء) میرے خطبے اور تقریروں میں یہ بات آ چکی ہے کہ اس فتنے کی صورت میں خدا نے اپنے سلسلہ کے لئے سامان پیدا کیا ہے۔جب تک خدا کی سلسلوں کی ترقی کے لئے عام اور غیر معمولی حالات نہ ہوں اس وقت تک جماعت ترقی نہیں کرسکتی۔رسول کریم ﷺ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے وہ اسلام جو عام حالات میں چار سو سال میں پھیلتا اس نے ہجرت کے بعد بہت ترقی کی۔عرب میں اس واقعہ نے ایک آگ سی لگا دی۔مکے والوں نے کہا کہ مدینہ جائیں اور وہاں مسلمانوں کو خراب کریں وہ چڑھ کر آئے اور ان کو شکست ہوئی۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مکے والوں کو یہ ضرورت محسوس ہوئی کہ وہ ملک والوں کو ملائیں۔وہ لوگ عرب میں پھیل گئے اور انہوں نے اسلام کے مٹانے کے لئے پورے سامان کئے پہلے باقی عرب کے لوگ اس کو گھر کی لڑائی خیال کرتے تھے لیکن جب مدینہ پر چڑھ کر آنے سے مکے والوں کو شکست ہوئی تو ان کو اورادھر توجہ ہو گی اور وہ مکے والوں کے ساتھ متفق ہو گئے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو شکست دی اور اس طرح اسلام ان کے گھروں میں گھس گیا۔پھر رسول کریم ﷺکے بعد حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمر ؓکے زمانہ میں بیرونی سلطنتوں یعنی ایرانیوں اور رومیوں نے کہا کہ مسلمانوں پر حملہ کریں اور مسلمانوں کو عرب کی زمین سے مٹا دیں۔اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دل میں ڈالا کہ وہ اپنی حفاظت کے لئے اپنے وطنوں سے نکلیں چنانچہ ایرانیوں اور رومیوں کے حملوں کو دیکھ کر مجبور اًان کے مقابلہ کے لئے نکلنا پڑا۔یہ اللہ تعالیٰ ٰکی ایک تدبیر تھی۔مسلمان جو اپنے گھروں سے اپنے قوی دشمن سے جان بچانے کے لئے نکلے تھے دشمن پر فاتح ہوئے اور دشمن کے ملک ان کے ملک ہو گئے یہ ایک تدبیر تھی جس سے اللہ تعالیٰٰ چاہتا تھا کہ مسلمان دنیا کو فتح کریں۔آج ہمارے لئے ان غیر معمولی سامانوں سے بعض پیدا کئے گئے ہیں۔ہندو تبلیغ کرتے ہیں اور انہوں نے ہزاروں مکانوں کو شدہ کر لیا ہے۔ایسے خطرناک اور روح فرسا حالات ہیں کہ ان