انوارالعلوم (جلد 7) — Page 109
۱۰۹ نجات حصول کے لئے جو اعمال کئے جاتے ہیں ان کو چھوڑنے کا کیا مطلب؟ خداتعالی ٰنے روح کو ابدی اسی لئے بنایا ہے کہ تاوہ یہ سمجھے کہ خدا کا عرفان کبھی ختم نہ ہو گا۔روح کو خداتعالی ٰابدی زندگی دیکر کہے گا کہ میرا عرفان حاصل کر۔مگر جب عرفان کبھی ختم نہ ہو گا تو روح کو پتہ لگے گا کہ ذات باری غیر محدود ہے ورنہ جو موجودہ علم انسان کو اللہ تعالیٰٰ کی نسبت ہے اس سے ان طاقتوں کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا جو اللہ تعالیٰٰ میں پائی جاتی ہیں۔اعمال کی حقیقت سے ناواقفیت دوسری جہالت ان لوگوں کی یہ ہے کہ ایسے لوگوں نے اعمال کی حقیقت کو نہیں سمجھا۔اعمال صرف خدا کو پا لینے کے لئے ہی نہیں ہوتے بلکہ عبودیت کے اظہار اور اظہار شکریہ کے لئے بھی ہوتے ہیں۔جس کو خدا مل گیا اور فرض کر لو کہ خدا کے عرفان کی حد اس نے معلوم کرلی اور اس حد کو پہنچ گیاتب بھی وہ اعمال چھوڑ نہیں سکتا کیونکہ پھر وہ شکریہ کے اظہار کے لئے عمل کرے گا۔یہ ایسی ہی مثال ہے کہ ایک شخص اپنے شاگرد کو اپنا سارا علم پڑھادے مگر شاگر وہ پھر بھی اس کے سامنے دو زانو ہو کر بیٹھے گا۔اپنی حقیقت سے ناواقفیت تیسری جہالت یہ ہے کہ ایسے لوگوں نے اپنی حقیقت بھی نہیں سمجھی۔کیا وہ نہیں جانتے کہ مخلوق ہر وقت تازه غذا کی محتاج ہوتی ہے۔عبودیت کے ذریعہ انسان عرفان کے مقام پر جب پہنچتا ہے تو پھر اسے یہ بھی ضرورت ہوتی ہے کہ اس مقام پر اپنے آپ کو قائم رکھے جیسے ایک مضبوط آدمی کو ضرورت ہوتی ہے کہ اپنی طاقت قائم رکھنے کے لئے غذا کھاتا رہے۔پس جس طرح ایک انسان مضبوط ہو کر کھانا کھانا چھوڑ نہیں دیتا اسی طرح عرفان کے مقام پر پہنچ کر عبودیت کو چھوڑ نہیں سکتا۔پس عبادت کبھی نہ چھوٹے گی نہ یہاں اور نہ وہاں۔بلکہ وہاں زیادہ بڑھ کر عبودیت کا اظہار کیا جائے گا۔ہاں دنیا ایسی جگہ ہے کہ جہاں انسان اس مقام سے گر بھی سکتا ہے اور اس میں ترقی بھی کر سکتا ہے مگر وہ ایسی جگہ ہے کہ وہاں اپنے مقام سے گرے گا نہیں او ر بڑھتاہی جائے گا۔- الفاتحة : انا ۲-المومنون : ۲ تا۱۲ ٣- زبور باب۵۱ آیت ۱۴تا۱۲ بائبل سوسائٹی انار کلی لاہور مطبوعہ ۱۹۹۴ء ۴۔الاعراف :۴ ۵- الأنعام : ۹۳