انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 557 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 557

کہ اگر احمدیوں کے سچّا ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ان کے مد مقابلہ کے لوگ مباہلہ کے بعد بندر اور سؤر بن جائیں اور اسی وقت آسمان سے بجلی گر کر ان کو جلادے تو پھر یہ بھی ضروری ہے کہ اگر دوسرا فریق سچّا ہے اور احمدی جھوٹے ہیں تو مباہلہ کے بعد احمدی بند اور سؤر بن جائیں اور فوراً آسمان سے بجلی گر کر ان کو ہلاک کردے۔قرآن کریم سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ مباہلہ کرنے والوں میں سے جو جھوٹا ہوگا اس پر عذاب آئے گا نہ یہ کہ ایک فریق اگر جھوٹا ہوگا تو اس پر عذاب آئے گا دوسرا فریق خواہ جھوٹا بھی ہو اس پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر ہمیں نزلہ یا زکام ہوا تو آپ کہہ دیں گے کہ مباہلہ کے نتیجہ میں ایسا ہوا۔مَیں ان سے کہتا ہوں کہ نزلہ اور زکام صرف انہی کو تو نہیں ہوتا ہمیں بھی ہوتا ہے اگر ان کے نزلہ اورزکام کو ہم مباہلہ کا نتیجہ قرار دیں گے تو کیا وہ ہمارے نزلہ زور زکام کو نہیں پیش کرسکیں گے اور نہیں کہہ سکیں گے اگر یہ مباہلہ کا نتیجہ ہے تو یہ نتیجہ تو تمہیں بھی بھگتنا پڑا ہے۔غرض مباہلہ کا اثر چونکہ دونوں میں سے جھوٹا ہو اس پر پڑتا ہے نہ کہ صرف ایک فریق پر اس لئے دونوں فریق کے حالات مساوی ہیں اور اس سے انکار کرنے کی کوئی وجہ نہیں مباہلہ کے بعد اگر دونوں فریق سے کوئی بھی بندر ،سؤر نہ بنایا فوراً آگ نازل ہوکر اس نے کسی فریق کو نہ جلا دیا تو ماننا پڑیگا کہ جو لوگ سمجھتے تھے کہ مباہلہ کا نتیجہ یہ ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ جس رنگ میں چاہے عذاب نازل کردیتاہے۔خلاصہ کلام یہ کہ مباہلہ کے متعلق جس قدر شبہات ہیں بے بنیادہیںاور چونکہ اس کا اثر جو جھوٹا ہو اس پر پڑتا ہے نہ صرف ایک پر اس لئے دونوں فریق کے حقوق اس میں مساوی ہیں اور کسی کو عذر کی گنجائیش نہیں۔پس بہتر یہ ہے کہ اگر دوسرے طریق فیصلہ کے جو مَیں نے پیش کئے ہیں آپ لوگوں کو منظور نہ ہوں یا ان کا کوئی نتیجہ نہ نکلے تو فساد کے مٹانے کے لئے اس طریق سے فیصلہ کی کوشش کی جائے تا کہ ان لوگوں کو جو قوت فیصلہ نہیںرکھتے فیصلہ کرنے میں مدد ملے۔یہ موقع نہایت عمدہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں بھی اور آپ لوگوں کو بھی ایک جگہ جمع کردیا ہے اور سیکنڑوں آدمی دونوں فریق کے ایک جگہ ہیں ہر قسم کا انتظام اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوسکتا ہے۔بالآخر میں دوبارہ پھر آپ لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ آپ لوگ اپنی ہی جانوں کے ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ ہزاروں آدمی جو آپ کے اقوال کو خدا اور رسول کا کلام سمجھ کر آپ کی بات کو تسلیم کرلیتے ہیں ان