انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 522 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 522

اور خود آپ اور قیصر جرمن اور زارِ روس اور دُنیا کی قریباً ہر حکومت اور ہر ایک برّ اعظم اور ہر ایک ملک ہیں اور وہ آپ کی وہ پیشگوئی ہے جو پچھلی عالمگیر جنگ کے متعلق ہے۔آپ ؑ نے اللہ تعالیٰ سے خبر پاکر ۱۹۰۵؁ء میں اعلان کیا کہ ایک عظیم الشان زلزلہ کی خبر دی گئی ہے۔جو جوانوں کو بڈھا کردیگا اور شہر اس سے برباد ہوں گے اور اس قدر خون بہے گا کہ نہر یں مُردوں کے خون سے سرخ ہوجائیں گی اور پہاڑ اس سے اُڑائے جائیں گے اور لوگ اس کے صدمہ سے پاگل ہوجائیں گے اور تمام دنیا پر اس کا اثر ہوگا اور اس کے نتیجہ میں زار روس کی حالت بہت ہی زار اور دردناک ہوگی اور پھر آپؑنے خبر دی کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ چاروں طرف جنگی جہاز پھریں گے تا کہ آپس میں جنگ ہو اور مسافر روکے جائیں گے اور اپنے وطنوں تک ان کو پہنچنا مشکل ہوجائے گا اور زار روس سے اس کی حکومت لے لی جائے گی۔اورپھر آپ ؑکو بتایا گیا کہ جہاز ہر وقت سمندر میں جانے کے لئے تیار رکھے جائیں گے زمین تہ وبالا کی جائے گی اور خدا اپنی فوجوں سمیت دنیا کو اس کے گناہوں کی سزا دینے کے لئے نازل ہوگا۔عرب اپنی قومی ترقی کی طرف توجہ کریں گے اور اس کے حصول کے لئے کوشش کریں گے۔جس طرح میرا ذکر اور میری یاد مٹ گئی ہے اسی طرح میں شہروں او ر علاقوں کو برباد کردوں گا اوران شہروں کو دیکھ کر رونا آئے گا اور یہ کہ سولہ سال کے عرصہ میں یہ واقعہ ہوگا۔پھر ایک اور موقعہ پر آپ ؑبیان فرماتے ہیں کہ وہ خطرناک جنگ جو ہونے والی ہے اس وقت نہ معلوم ہم زندہ ہوں یا نہ ہوں اس لئے ہم نے برطانیہ کی کامیابی کے لئے دُعا کردی ہے تا کہ اس حکومت نے جو مذہبی آزادی ہمیں دے رکھی ہے اس کا بدلہ ہو۔گو اس پیشگوئی میں زلزلہ کا لفظ استعمال ہوا ہےمگر عربی میں زلزلہ کو ہر ایک مصیبت کے معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم میںبھی۔یہ لفظ جنگ کے متعلق استعمال ہوا ہے اور خودحضرت مسیح موعودؑنے اس پیشگوئی کے اعلان کے وقت شائع کردیا تھا کہ اس سے مراد کوئی ایسی آفت ہے جس سے شہر اور کھیت وغیرہ برباد ہوں گے۔اے شہزادئہ والا مقام ! اس پیشگوئی کے الفاظ خود اپنی تشریح کررہے ہیں اور کسی دوسرے کی تشریح کے محتاج نہیں کس طرح یہ جنگ آناً فاناً ساری دُنیا میں پھیل گئی اور کس طرح جنگی بیڑے اِدھر سے اُدھر پانچ سال تک گشت لگاتے رہے اور جنگی جہاز ہر وقت جنگ کی انتظار میں پھرتے رہے اور کس طرح پہاڑ استعارۃً نہیں بلکہ فی الواقع اُڑائے گئے اور شہرور علاقے برباد