انوارالعلوم (جلد 6) — Page 34
لوگوں کو تعجب ہوتا ہوگااور ممکن ہے کہ جو لوگ آتے ہی کسی کام پر لگادئیے گئے ان کو خیال ہو کہ کیا وجہ تھی جس کے باعث ہمیں یہ انتظام کرنا پڑا اور یہ ضرورت کیوں پیش آئی۔قادیان میں پہلے بھی جلسے ہوئے۔آریوں کے جلسے باقاعدہ ہوتے ہیں،سکھوں کے جلسے بھی باقاعدہ ہوتے ہیں، غیر احمدیوں کا جلسہ بھی پیچھے دو تین سال ہوئے ہوا تھا اور ان کے علماء آتے رہتے ہیں، وعظیںکرتے ہیں۔چنانچہ پچھلے دنوں مولوی نُور احمد صاحب ساکن لکھو کے یہاں آئے۔ان کے ساتھ ہمارے بعض دوستوں کا بر سرِ بازار مباحثہ بھی ہوا پچھلے دنوں جو باقاعدہ جلسہ غیر احمدیوں کا ہوا تھا اس میں ان کے اور مولویوں کے علاوہ مولوی ثناء اللہ صاحب بھی آئے تھے مگر ان مواقع میں سے ہم نے کسی موقع پر کوئی ایسا انتظام نہیں کیا تھا۔پھر اس دفعہ کیا ضرورت پیش آئی تھی کہ یہ انتظام کیا گیا؟ ہمارے دشمنوں کے ناپاک ارادے اس کے لئے یاد رکھو کہ ہم یہ نہ کرتے مگر، ہماری آنکھوں نے بعض خاص باتیں دیکھیں اور ہمارے کانوں نے سُنیں اس لئے ہمیں احتیاطاً یہ انتظام کرنا پڑا۔ہم چھ مہینے سے ان کے جلسہ کے متعلق سن رہے تھے۔مگر ہمیں اس کے متعلق کچھ خیال نہ تھا نہ ہم نے اس کے لئے باہر اپنے آدمیوں کو اطلاع دی تھی نہ ہمیں کسی تدبیر کا خیال تھا۔لیکن چند ہی دن ہوئے جبکہ مجھے ایک ایلیگشن کی شہادت کے لئے لاہور جانا پڑا تو ایک دن صبح کی نماز کے بعد ایک دوست نے بتایا کہ لاہور کے تمام بڑے بازاروں میں قریباً ہر دس بیس گز کے فاصلہ پر ایک بڑا اشتہارچسپاں ہے جس میں لکھاہوا تھا کہ :- ’’قادیانی جماعت کے کافتہ المسلمین کے خلاف مذہبی مسائل کا تصفیہ اور اختلاف کا سدِّباب کرنے کیلئے علماء ہندکا ایک عظیم الشان جلسہ ‘‘ ہوگا۔(اشتہار بعنوان جمعیۃ العلماء اور مرزائی جماعت قادیانی) اُسی وقت ایک دوست نے ایک اخبار کا کٹنگ دکھایا جس میں لکھا تھا کہ خلافت کے بارے میں چونکہ احمدی لوگ عام مسلمانوں سے اختلاف رکھتے ہیں اس لئے ان کے اقوال وافعال کا سدِّ باب کرنے کے لئے علماء ہند قادیان جائینگے ،تما م مسلمانوں کو چاہئے کہ ان کی مدد کریں۔(پیسہ اخبار) اب یہ ظاہر ہے کہ افعال کا سدِّ باب دلائل سے نہیں ہوا کرتا کیونکہ بات کا جواب بات ہوتی ہے اور افعال کا افعال سے۔پس افعال کے سدِّ باب کی نیت سے جو قوم چلی تھی اس کی غرض فتنہ کے سوا