انوارالعلوم (جلد 6) — Page 232
دائرہ اسلام سے وہ خارج نہیں اور اس سے وہ نتیجہ نکلاتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود ؑکا انکار بھی ایک جزوہ کا انکار ہے۔نہ کہ دائرہ اسلام سےخارج کردیتا ہے۔یہ عقیدہ ایک ایسا خطرناک عقیدہ ہے کہ اس سے اسلام کی ہی بیخکنی ہوجاتی ہے۔کیونکہ قرآنِ کریم اسلام کے لئے اللہ ،ملائکہ ، کتب سماویہ ،رُسل اوریوم آخر پر ایمان لانا ضروری قرار دیتا ہے۔پس یہ بات جو مولوی محمد علی صاحب نے لکھی ہے۔ہرگز حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی لکھائی ،ہوئی یا پسند کی ہوئی نہیں ہوسکتی کیونکہ آپ کا مذہب بدر ۹مارچ ۱۹۱۱ء کے پرچہ میں اس طرح درج ہے۔’’ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہ کےماننے کے نیچے خدا کے سارے ما ٔموروں کے ماننے کا حکم آجاتا ہے …حضرت آدمؑ ،حضرت ابراہیم ،حضرت موسٰی ،حضرت مسیحؑان سب کا ماننا لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہ کے ماتحت ہے حالانکہ ان کا ذکر اس کلمہ میں نہیں۔قرآن مجید کا ماننا ،سیّدنا حضرت محمد خاتم النّبیّٖن صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا، قیامت کا ماننا ،سب مسلمان جانتے ہیں کہ اس کلمہ کے مفہوم میں داخل ہے۔‘‘ پس حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے ا س فتویٰ کی موجودگی میں اور خود اس فتویٰ کےصریح باطل ہونے کے باوجود کون شخص خیال کرسکتاہے کہ مولوی محمد علی صاحب نے یہ مضمون حضرت خلیفۃ المسیح کے لکھوائے ہوئے نوٹوں کے مطابق لکھا ہے اورآپ کی پسندیدگی کے بعد شائع کیا ہے۔دوسری شہادت دوسری اندرونی شہادت یہ ہے کہ مولوی محمد علی صاحب نے اپنےاس رسالہ میں قرآن کریم کی آیت کے ایسے غلط معنے کئے ہیں کہ وہ عربی زبان کے قواعد کے بالکل بر خلاف ہیں اور حضرت خلیفۃ المسیح کے کئے ہوئے معنوں کے بھی خلاف ہیں بلکہ ایک رنگ میں ان کی تردید حضرت خلیفۃ المسیح نے کی ہے۔مولوی محمد علی صاحب لکھتے ہیں:- ’’قُلِ اللّٰہُ ثُمَّ ذَرْھُمْ(الانعام:۹۲)یعنی اللہ منوا کر ان کو چھوڑ دو۔‘‘٭ یعنی آیت قُلِ اللّٰہُ ثُمَّ ذَرْھُم ْکےیہ معنے ہیں کہ لوگوں سے خدا منوالو اورپھر ان کو چھوڑ دو۔اسی قدر ان کے اسلام کے لئے کافی ہے۔لیکن جب ہم آیت کریمہ کو دیکھتے ہیں تو وہ اس طرح ہے۔وَمَا قَدَرُوا اللہَ حَقَّ قَدْرِہٖٓ اِذْ قَالُوْا مَآ اَنْزَلَ اللہُ عَلٰي بَشَرٍ مِّنْ شَيْءٍ۰ۭ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِيْ جَاۗءَ بِہٖ مُوْسٰي نُوْرًا وَّہُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَہٗ قَرَاطِيْسَ تُبْدُوْنَہَا وَتُخْفُوْنَ كَثِيْرًا۰ۚ وَعُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْٓا اَنْتُمْ وَلَآ اٰبَاۗؤُكُمْ۰ۭ قُلِ اللہُ۰ۙ ثُمَّ ذَرْہُمْ فِيْ