انوارالعلوم (جلد 6) — Page 10
ترمیم کی گئی۔پھر بعض دفعہ پیشگوئی میں کئی مرکّب پہلو ہوتے ہیں۔مثلاً حضرت مولوی نورالدین صاحب کا جب ایک لڑکا فوت ہوا تو مخالفوں نے اس پر ہنسی اُڑائی۔اس وقت حضرت مسیح موعودؑ نے خُدا سے علم پاکر پیشگوئی کی کہ مولوی صاحب کے ہاں ایک لڑکا ہوگا جو تیرہ تا اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچے گا۔چنانچہ غلام کا لفظ اس کےلئے آیا تھا۔پھر وہ موٹا ہوگا۔آنکھیں اس کی بڑی بڑی ہونگی۔خوش رنگ ہوگا۔اس کی ٹانگوں پر پھوڑوں کے نشان ہونگے۔اس وقت مولوی صاحب کی عمر قریباً ساٹھ سال کی تھی۔اس لئے ایک تو اس میں مولوی صاحب کی عمر کی پیشگوئی تھی۔دوسرے بچے نہیں بچتے تھے چنانچہ وہ بچہ ہوا۔اور جس قدر علامات بتائی گئی تھیں۔وہ ساری اس میں پائی گئیں۔پھر آپ نے تباہی پڑی۔وہاں ایک احمدی پر جُھوٹا مقدمہ تھا جو حضرت مسیح موعودؑ کو دُعا کیلئے لکھا کرتا تھا۔اورآپ اس کیلئے دُعا فرماتے تھے۔جب زلزلہ آیا تو مجسٹریٹ ،وکیل ،مدعی سب دب کر مرگئے مگر احمدی کو کوئی نقصان نہ پہنچا۔کیا یہ خدا کا تصرف صداقت کی علامت نہیں غلطی ہے۔کیونکہ اگر کسی اور نے ترقی کی ہے تو اس کا قبل از ترقی دعویٰ نہ تھا کہ مجھے کامیابی حاصل ہوگی اگر وہ کامیاب نہ ہوتا تو اس کی ذات پر کوئی اثر نہ پڑتا۔لیکن حضرت مرزا صاحب کے مقابلہ میں دوسرے لوگوں کی ایسی مثال ہے جیسے چند لڑکے دوڑیں۔ان میں سے کسی نے تو آگے نکلنا ہی ہے مگر حضرت مرزا صاحب کی مثال ایسی ہے جیسے دوڑنے والوں میں ایک کہے مَیں سب سے آگے برھ جاؤنگا اوراپنے خلاف حالات ہونے کے باوجود وہ آگے بڑھ جائے اس کی مثال یہ ہے کہ حضرت صاحب کی لاہور کے جلسہ مہوتسو میں تقریر پڑھی گئی جس کے متعلق قبل از وقت آپ نے اشتہار کے ذریعہ اعلان کردیا تھا کہ میرا مضمون اس جلسہ میں پڑھے گئے ان سے بالا رہا۔اور مخالفین نے اس بات کا اعتراف کیا۔کیا یہ کسی کے اختیار میں ہے کہ اس طرح اعلان کرسکے۔انسان کیسے تجویز کرسکتا ہے کہ سب مذاہب کےوکیل میرے مقابلہ میں کچھ نہیں کرسکیں گے۔(الفضل ۱۴ مارچ ۱۹۲۱ء