انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 512 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 512

انوار العلوم جلد ۵ ۵۱۲ (۴) ثبوت یہ ہے جو روزانہ مشاہدوں میں آتا ہے۔اور اگر روزانہ نہیں تو ایک عرصہ کے بعد شخص کے مشاہدہ میں آتا ہے کہ بار ہا ایسا ہوتا ہے کہ اس کے قلب پر ایک ایسی بات اثر کرتی ہے جس کا اس کے خیالات سے بالکل کوئی تعلق نہیں ہوتا۔بلکہ بعض اوقات اس کے خیالات کے الٹ وہ تحریک ہوتی ہے اور اس کے کرنے کے لئے انسان ایسا مجبور ہوتا ہے کہ چھوڑ نہیں سکتا۔ہر انسان پر کبھی نہ کبھی ایسا وقت ضرور آتا ہے حتی کہ کفار پر بھی آتا ہے۔دہریوں پر بھی آتا ہے۔چنانچہ دہریوں کے ایسے واقعات لکھے ہیں۔مثلاً وہ کہتے ہیں ہمارے دل میں ایسی تحریک پیدا ہوئی جو مجبور کر کے ایک جگہ لے گئی اور وہاں دیکھا کہ لاش پڑی ہے۔اس قسم کی تحریک کے محرک کون ہوتے تو اس قسم کی شہادت مادی لوگوں میں بھی پائی جاتی ہے۔اور روحانی لوگوں کی تو بہت ہی شہادتیں اس کے متعلق ملتی ہیں کہ یکلخت دل میں ایک تحریک ہوتی ہے جس کا خیالات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور اس پر عمل کرنا پڑتا ہے یہ تحریک ملائکہ کی طرف سے ہی ہوتی ہے اور یہ ان کی بہتی کا ثبوت ہے۔ملائکہ کی ضرورت یہ تو میں نے ملائکہ کے ثبوت کے عقلی دلائل بتائے ہیں۔اب یہ بتاتا ہوں کہ ملائکہ کی ضرورت کیا ہے ؟ ضرورت بھی کسی چیز کا ثبوت ہوتی ہے۔کیونکہ جس چیز کی ضرورت ثابت ہو جائے قانون قدرت کے وسیع مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہوتی بھی ضرور ہے۔پس کسی چیز کی ضرورت بھی اس کے ہونے کا ثبوت ہے مگر یہ ثبوت بالواسطہ ہوتا ہے بلا واسطہ نہیں ہوتا اس لئے میں ملائکہ کی ضرورت بتاتا ہوں۔پہلی ضرورت تو یہ ہے کہ روحانی اور جسمانی نظام میں مشابہت ہوتی ہے اور ہونی چاہئے۔روحانی امور کو جسمانی پر قیاس کر لیا جاتا ہے۔کیونکہ یہ دونوں سلسلے ایک جیسے چلتے ہیں سوائے اس کے کہ جہاں ان کا ایک جیسا نہ چلنا ضروری ہوتا ہے۔اور جسمانی معاملات میں ہم دیکھتے ہیں کہ اسباب کا ایک وسیع سلسلہ چلتا ہے اور مخفی در مخفی اسباب چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ نہایت باریک گیسوں تک پہنچتا ہے بلکہ کہتے ہیں کہ ان سے بھی آگے چل کر مادہ طاقتوں میں منتقل ہو جاتا ہے اور انہی طاقتوں کے مطبعوں کا نام ہم ملا کہ رکھتے ہیں۔