انوارالعلوم (جلد 5) — Page 444
انوار العلوم جلد ۵ اصلاح نفس لازم کو یہ دکھ لینا چاہئے کہ اگر اسے کوئی ایسی ملازمت مل سکتی ہے جس میں با جماعت نماز پڑھنے کا موقع ہے تو اسے ترجیح دینی چاہئے۔بعض دفعہ ملازموں کو ان کے افسر نماز نہیں پڑھنے دیتے ایک افسر تھا وہ ایک احمدی کو نماز نہیں پڑھنے دیتا تھا۔اس نے ملازمت چھوڑ دی اور دوسری جگہ کرلی۔دوسری جگہ اسے ایسا انگریز افسر ملا جس نے خود مصلی لا کر دیا اور کہا اس پر میرے سامنے نماز پڑھا کرو۔تو جو شخص خدا تعالیٰ کے لئے کوئی کام کرتا ہے خدا تعالیٰ خود اس کا انتظام کر دیتا ہے۔یہ تو مجبوری کی حالت کے متعلق ہے۔مگر ایسے لوگ ہیں جو بغیر کسی مجبوری کے نشستی اور کاہلی سے مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے کے لئے نہیں آتے۔ان کی نہ نمازیں ہوتی ہیں اور نہ انہیں کوئی فائدہ پہنچتا ہے۔بتاؤ اس شخص کی نسبت تم کیا کہو گے ؟ جس کے مکان کی ایک دیوار گری ہوئی ہو اور وہ کہے کہ رات کو کوئی میرا اسباب لے جاتا ہے کچھ پتہ نہیں لگتا کہ کیونکر ے جاتا ہے ؟ اسی طرح اس شخص کی حالت ہے جو نماز تو با جماعت نہیں پڑھتا اور کہتا ہے کہ مجھے تقوی وطہارت حاصل نہیں ہوتی۔مجھے پر حقائق اور معارف نہیں گھلتے۔تم لوگ اپنے وقت کا حرج کر کے اور ایک مدتک نقصان بھی برداشت کر کے باجماعت نمازیں پڑھو۔ہو سکتا ہے کہ بعض لوگ مسجد سے بہت دُور ہوں جیسا کہ لاہور کے رہنے والے ہیں کہ کوئی شہر کے کسی حصہ میں رہتا ہے اور کوئی کسی حصہ ہیں۔مگر میں کہتا ہوں کیوں قریب قریب کے دس پندرہ آدمی مل کر ایک جگہ معین نہیں کر لیتے کہ وہاں جمع ہو کر نماز پڑھ لیا کریں ؟ کوئی اس بات کے لئے مجبور نہیں کرتا کہ سارے کے سارے ایک جگہ جمع ہو کر نماز پڑھیں۔سو سو گز کا حلقہ بنا لیا جائے اور اس حلقہ میں رہنے والے ایک جگہ جمع ہو کر نماز پڑھ لیا کریں۔یہ کوئی مشکل بات نہیں ہے۔نماز کا ترجمہ سیکھو پھر نماز کا ترجمہ کھو اور مجھ کر پڑھو تا کہ نفع حاصل ہو۔یہ کوئی مشکل امر نہیں بلکہ بالکل آسان ہے۔وہ لوگ جو نماز کا ترجمہ نہیں سیکھتے کیا انہیں خیال نہیں آتا کہ اگر کوئی شخص کسی جگہ کا راستہ پوچھے اور اسے انگریزی میں بتا دیا جائے حالانکہ وہ انگریزی کا ایک لفظ بھی نہ سمجھتا ہو تو وہ منزل مقصود تک پہنچ جائے گا ؟ ہرگز نہیں۔اسی طرح وہ شخص جس کے لئے موقع ہے کہ نماز کا ترجمہ اور معنی پڑھے۔مگر وہ نہیں پڑھتا۔وہ بھی نماز کے ذرایعہ اس جگہ نہیں پہنچ سکتا جہاں نمازہ پہنچاتی ہے۔پس تم نماز باجماعت پڑھو اور پانچوں وقت پڑھو سوائے اس وقت کے جو دفتر میں آجائے یا