انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 131

انوار العلوم جلد ۵ نہیں کہ انسان کے تین مہر بنا دیتا ؟ قادر ہے مگر اس نے بنائے تو نہیں۔خاتم النبین کی شان کا اظہار پس خدا تعالیٰ کا قادر ہونا اور بات ہے اور کوئی کام کرنا الگ بات ہے چونکہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح کو زندہ آسمان پر نہیں اُٹھایا اس لئے ہم یہ بات نہیں مان سکتے کہ وہ زندہ انسی خاکی جسم کے ساتھ آسمان پر موجود نہیں اور کسی زمانہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی اصلاح کے لئے دنیا میں آئیں گے۔حیات مسیح کے عقیدہ سے پھر حضرت میتی کو زندہ آسمان پر ماننے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت ہنگ ہوتی ہے کیونکہ اگر کسی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تک نبی نے زندہ رہنا ہوتا تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہو سکتے تھے۔چنانچہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو یہی خیال پیدا ہوا اور حضرت عمرہ جیسا جلیل القدر انسان ہاتھ میں تلوار لے کر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ اگر کسی نے یہ کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں تو میں اس کا سر اڑا دوں گا۔تمام صحابہ جو بڑے دلیر اور بہادر تھے کسی نے ان کی تردید نہ کی۔اس وقت وہ شخص جس کو خدا تعالیٰ نے اسلام کی حفاظت کے لئے کھڑا کیا اس نے آکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دیا اور سب کو مخاطب کر کے کہا۔سنو ! وَمَا مُحَمَّدُ الأَرسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَائِن مَاتَ أَوْ قُتِل انقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِحُمُ (ال عمران (۱۲۵) که محمد نہیں تھے مگر اللہ کے رسول آپ سے پہلے جتنے رسول تھے وہ فوت ہو گئے۔اگر آپ بھی فوت ہو گئے تو کیا تم ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے۔پھر اس کے بعد کہا۔لوگو اسنو ! مَن كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدُمَاتَ وَمَنْ كَانَ يعْبُدُ اللهَ فَإن الله حتى لا يموتُ (بخارى كتاب المناقب باب قول النبي صلى الله عليه وسلم لو كنت متخذا خليلا ، کہ جو محمد کی عبادت کرتا ہے وہ دیکھ لے کہ آپ فوت ہو گئے ہیں اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے وہ سُن لے کہ اللہ زندہ ہے۔حضرت عمریضہ کہتے ہیں کہ جب ابو بکر ین نے قرآن کریم کی یہ آیت پڑھی تو مجھے معلوم ہوا کہ رسول کریم فوت ہو گئے ہیں۔اس وقت وہ کانپنے لگے اور گر گئے۔پھر لکھا ہے کہ صحابہ گلیوں میں روتے پھرتے اور حسان کا یہ شعر پڑھتے کہا كنتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِى فَعَى عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتْ فَعَلَيْكَ كُنتُ يُحَاذِرُ ر دیوان حسان بن ثابت ما مطبوعہ بیروت ۱۹۹۶ء ) تو ہماری آنکھوں کی پہیلی تھا جب تو نہ رہا تو پھر خواہ کوئی مرے ہیں کچھ پرواہ نہیں۔یہ وہ محبت