انوارالعلوم (جلد 4) — Page 613
العلوم جلد ۴ تقدیرالی شک نہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہر چیز کے لئے تقدیر رکھی ہے اور بندہ کا کام ہے کہ اس کے ماتحت کام کرے۔مگر یہ ہو سکتا ہے کہ بعض اوقات عام تقدیر کام نہ آسکے۔مثلاً ایک انسان جنگل میں ہے اور اس کو پانی کی ضرورت ہے۔لیکن وہاں نہ کوئی کنواں ہے اور نہ چشمہ۔اس موقع پر پانی حاصل کرنے کے لئے کیا تقدیر ہے؟ یہی کہ کنواں کھود کر پانی نکالے۔لیکن اگر وہ جنگل میں کنواں کھودنے لگے تو قبل اس کے کہ پانی نکلے وہ ہلاک ہو جائے گا۔ایسے وقت کے لئے خدا تعالی نے خاص تقدیر رکھی ہے جس کے جاری ہونے سے انسان ہلاک ہونے سے بچ سکتا ہے۔اگر وہ جاری نہ ہو تو اس کی ہلاکت میں کوئی شبہ نہیں رہتا۔اور خاص تقدیر یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور دعا کرے اور خدا اس کے لئے پانی حاصل کرنے کا کوئی خاص سامان کر دے۔اس کی مثال کے طور پر میں ایک صحابی کا ایک واقعہ پیش کرتا ہوں۔ان کو رومیوں کے لشکر نے پکڑ کر قید کر لیا اور وہ صحابی کو پکڑ کر قید کرنے پر بہت خوش ہوئے۔بادشاہ نے اس کو کوئی بہت سخت سزا دینی چاہی۔کسی نے مشورہ دیا کہ ان کے مذہب میں سنور کھانا منع ہے۔وہ پکا کر اسے کھلایا جائے۔چنانچہ سور کا گوشت پکا کر ان کے سامنے رکھا گیا۔لیکن انہوں نے کھانے سے انکار کر دیا۔انہیں بار بار کہا گیا لیکن انہوں نے نہ کھایا۔آخر بھوک کی وجہ سے ان کی حالت بہت خراب ہو گئی۔اس موقع پر وہ اپنی جان بچانے کے لئے کوئی سامان نہیں کر سکتے تھے اور تقدير عام ان کی مدد نہیں کر سکتی تھی کیونکہ وہ دوسروں کے ہاتھوں میں قید تھے۔اس موقع پر خدا ہی کچھ کرتا تو ہو سکتا تھا۔لیکن اگر خدا نے یہ فیصلہ کیا ہو تاکہ ہر موقع پر سامان کے ذریعہ ہی کام ہو تو ان کی نجات کی صورت نہ ہو سکتی تھی۔مگر چونکہ خدا تعالیٰ نے تقدیر خاص کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہے ان کے بچاؤ کی صورت ہو گئی۔اور وہ اس طرح کہ جب چار پانچ دن ان کو بھو کے گزرے تو خدا نے روم کے بادشاہ کے سر میں سخت درد پیدا کر دیا۔جس قدر دوائیاں ممکن تھیں اس نے کیں لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔کسی نے کہا اس کی وجہ یہ تو نہیں کہ جس شخص کو آپ نے قید کیا ہوا ہے اس کی آہ لگی ہے اور اس وجہ سے یہ سزا مل رہی ہے۔بادشاہ نے کہا معلوم ہوتا ہے یہی وجہ ہے اس نے صحابی کو بلا کر ان سے ملاطفت کی اور حضرت عمر کو اپنی سردرد کے متعلق لکھا جنہوں نے اس کو پرانی ٹوپی بھیجی کہ یہ پہن لو سر کا درد جاتا رہے گا۔اور یہ بھی لکھا کہ ہمارا ایک بھائی تمہارے پاس قید ہے اس کو بعزت و احترام چھوڑ دو۔اس نے ایسا ہی کیا اور ٹوپی پہنے سے اس کی درد جاتی رہی۔