انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 483 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 483

انوار العلوم - جلد ۴ خطاب جلسہ سالانہ کے ۱۳ کمبر ۱۹۱۹ء ہوتی ہے چننے دیتا ہے۔مگر اب جب دنیا نے اپنی غلطی سے سمجھ لیا ہے کہ اسلام مٹنے والا ہے خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کے ذریعہ اسے اکناف عالم میں پھیلا دے۔ہمارا مشن جو ولایت گیا ہوا ہے وہ انگریزوں کو مسلمان کر رہا ہے۔مگر ان کے مسلمان ہونے سے ہمیں کوئی خاص خوشی نہیں ہے کیونکہ دین کے متعلق ان لوگوں کی طبیعتیں بہت مسخ ہو چکی ہیں۔اور ان کی کے دلوں پر جو زنگ لگ چکا ہے وہ بہت دیر کے بعد اترے گا۔وہ لوگ آخر مسلمان ہوں گے اور حقیقی مسلمان ہوں گے کیونکہ ان کے متعلق رسول کریم کی پیشگوئی ہے۔اور اسی لئے ہم ان کو مسلمان بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔مگر ان کی اصلاح میں دیر لگے گی۔لیکن یہ کام جو افریقہ کے ان رئیس زادوں کو اسلام میں لانے کا ہمارے مبلغوں نے کیا ہے وہ بہت قابل قدر ہے۔اب تک دو رئیس زادے مسلمان ہو چکے ہیں۔اور ان کی منشاء ہے کہ واپسی اپنے ملک میں جا کر اسلام کی تبلیغ کریں۔اس کے ساتھ ہی ایک اور ہوا چلی ہے اور وہ یہ ہے کہ افریقہ میں ایک سوسائٹی قائم کی ہوئی ہے۔اور اس نے ہمارے مبلغوں کو لکھا ہے کہ ان میں سے کوئی یہاں آئے۔اور اسلام کی تبلیغ کرے۔یہ بہت امید افزا بات ہے۔دوسری ایک اور خوش خبری ہے اور گوبات معمولی ہے مگر چھوٹی باتوں سے اہم نتائج مؤمن معمولی باتوں سے بھی بڑے بڑے نتائج نکال لیا کرتے ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جب مسلمانوں نے ایران پر چڑھائی کی۔اور ایران کی حکومت نے سمجھا کہ یہ بدو لوگ ہیں ہمارا کیا بگاڑ سکتے ہیں۔معلوم ہوتا ہے ان کے ملک میں قحط پڑا ہے اور یہ بھوکے مرتے یہاں آگئے ہیں۔یہ خیال کر کے بادشاہ ایران نے اپنے حاکموں کو کو پیغام بھیجا کہ ان لوگوں میں اعلان کر دو کہ ہر ایک سپاہی کو دو دو اشرفیاں انعام دیا جائے گا اور سرداروں کو زیادہ انعام ملے گا۔تم لوگوں کو چاہئے کہ انعام لے کر واپس چلے جاؤ۔یوں کیوں لڑتے اور اپنی جانیں ضائع کرتے ہو اگر لڑو گے تو مارے جاؤ گے تمہارے لئے یہی بہتر ہے کہ انعام لے کر واپس چلے جاؤ۔اس کے جواب میں مسلمانوں نے کہلا بھیجا کہ ہم روپوں کے لئے یہاں نہیں آئے۔تم نے ہم پر حملہ کیا تھا اور اب ہم یہ بتانے آئے ہیں کہ خدا ہمارے ساتھ ہے۔جب بادشاہ نے یہ جواب سنا تو کہنے لگا عجیب آدمی ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ ان میں سے چند ایک منتخب ہو کر میرے پاس آئیں میں ان سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔اس نے ایک مٹی کا بورا بھروا کر اپنے پاس رکھ چھوڑا۔اور مسلمانوں کے قائم مقاموں کو بلوا بھیجا۔جب وہ It۔