انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 23

دم چند ۳۴ ۲۳ جماعت قادیان کو نصائح بڑی ہیں۔تمہاری معمولی سی لغزش بھی خطرناک ہے۔ایک بد شکل کریہہ المنظر کے چہرے پر مکھیاں بیٹھی ہوں تو چنداں بری معلوم نہیں ہوتیں لیکن ایک حسین کے منہ پر ایک بھی مکھی ہو تو بری معلوم ہوتی ہے۔پس تمہاری پوزیشن اور ہے اور باہر والوں کی اور یہ نہ کہو کہ جھگڑے تو باہر بھی ہوتے ہیں۔اگر چہ مجھے جھگڑے کہیں بھی پسند نہیں پھر بھی قادیان میں تو اس کے متعلق بڑی احتیاط چاہئے۔حضرت صاحب کی اصلاح کا طرز بڑا لطیف اور عجیب تھا۔ایک شخص آیا اس نے باتوں ہی باتوں میں یہ بھی بیان کر دیا کہ ریلوے ٹکٹ میں میں اس رعایت کے ساتھ آیا ہوں۔آپ نے ایک روپیہ اس کی طرف پھینک کر مسکراتے ہوئے کہا کہ امید ہے جاتے ہوئے ایسا کرنے کی آپ کو ضرورت نہ رہے گی۔دہلی کے تین بزرگوں کا قصہ مشہور ہے کہ ایک شخص کے پاس مشتبہ مال تھا وہ ایک بزرگ کے پاس لے گیا کہ آپ اسے لے لیں۔تو انہوں نے کہا کہ تو بہ تو بہ میں اسے نہیں لے سکتا۔دوسرے کے پاس گیا تو اس بزرگ نے بھی انکار کیا مگر جب وہ شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ علیہ کے پاس لے گیا تو آپ نے رکھ لیا۔اسے شک پڑا کہ شاہ صاحب کی نیت (نعوذ باللہ ) خراب ہے۔وہ پہلے بزرگ کے پاس گیا اور یہ واقعہ بیان کیا اس بزرگ نے کہا۔سنو ایک گھڑا پانی ہو۔اس میں ایک قطرہ پیشاب کا پڑ جائے تو گل پانی پلید ہو گا یا پاک؟ اس نے جواب دیا- ناپاک۔تب اس بزرگ نے فرمایا۔اگر ایک قطرہ سمندر کے پانی میں پڑ جائے تو وہ پانی پاک ہے یا پلید ؟ اس نے کہا وہ تو پلید نہیں ہو گا۔فرمایا یہی مثال میری اور شاہ ولی اللہ صاحب کی ہے۔میں تو گھڑے کی مانند ہوں اس لئے مشتبہ مال سے بچتا ہوں۔وہ سمندر ہیں ان کی اس میں بدنامی نہیں۔وہ اسے لے کر اللہ کی راہ میں خرچ کر دیں گے یا اور مناسب کارروائی کریں گے۔پھر وہ شخص دوسرے بزرگ کے پاس گیا اور ان سے شاہ صاحب والا واقعہ بیان کیا اس بزرگ نے بھی ایسی ہی مثال دی اور شاہ صاحب کی بریت کی۔تب وہ خود شاہ صاحب کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ مجھے شبہ پڑ گیا ہے آپ نے وہ مشتبہ مال کیوں قبول کیا حالانکہ ان دو بزرگوں نے نہیں قبول کیا۔فرمایا بھائی میلے کپڑے والے پر کوئی رحبہ پڑ جائے تو کچھ پرواہ نہیں ہوتی۔وہ سفید لباس والے ہوئے ان کو تو ذرا دھبہ گوارا نہ تھا اس لئے میں نے رکھ لیا انہوں نے انکار کر دیا۔دیکھو ان بزرگوں کی نیکی نیتی کہ سب نے حسن ظن سے کام لیا۔جھگڑا پیدا نہ ہوا نہ کوئی فتنہ اٹھا۔اس شخص کا ایمان بھی