انوارالعلوم (جلد 4) — Page 343
لوم جلد ۳ عرفان الهی غرض بہت لوگ خواہش رکھتے ہیں کہ کسی طرح خدا تعالی کی معرفت انہیں حاصل ہو جائے۔راتوں کو جاگتے روتے اور تڑپتے ہیں۔دن میں ان کی حالت اس ماں کی طرح ہوتی ہے۔جس کا اکلوتا بچہ بچھڑا ہوتا ہے۔وہ گویا انگاروں پر لوٹ رہے ہوتے ہیں۔مگر باوجود اس کے خدا تعالیٰ کی معرفت اور عرفان انہیں حاصل نہیں ہوتا۔اب سوال ہوتا ہے کہ یا تو اس قدر سعی اور کوشش کے ہوتے ہوئے خدا کے نہ ملنے کے معنی یہ ہیں کہ خدا ہے ہی نہیں۔اور اگر ہے تو یہ ماننا پڑے گا کہ پھر اس کے پانے کا کوئی طریق ہی نہیں۔لیکن یہ دونوں خیال باطل اور دونوں باتیں غلط ہیں۔دراصل ہر ایک چیز کے پانے اور اس کے ملنے کی خاص ترکیبیں ہوتی ہیں۔اور جب تک ان کو استعمال نہ کیا جائے وہ حاصل نہیں ہو سکتی پیشتر اس کے کہ میں تفصیل کے ساتھ ان ترکیبوں کو بیان کروں جن کے ذریعہ خدا حاصل ہو سکتا ہے یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ عرفانِ الہی اور معرفت الہی کے معنی کیا ہیں۔یوں تو بہت لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں معرفت الہی حاصل نہیں ہوتی لیکن وہ جانتے نہیں کہ معرفت الہی ہوتی کیا ہے ؟ انہوں نے باپ دادا سے ان الفاظ کو سنا ہوا ہے مگر ان کا اصل مطلب اور معنی نہیں سمجھتے۔اس لئے میں بتانا چاہتا ہوں کہ اس کے کیا معنی ہیں۔عرفان اور معرفت عربی کے لفظ ہیں جو قریباً قریباً علم کے مترادف ہیں۔مگر علم اور ان میں ایک فرق ہے اور وہ یہ کہ علم میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ وہ بغیر کوشش اور تدبیر کے بھی حاصل ہو جاتا ہے مگر عرفان غور اور فکر سے حاصل ہو سکتا ہے۔اور گو علم کا لفظ عرفان کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے مگر عرفان کے معنوں میں یہ شرط پائی جاتی ہے کہ غور اور فکر کے بعد حاصل ہو۔گویا ان میں عموم اور خصوص کی نسبت ہے۔علم عام ہے اور عرفان خاص۔اسی لئے عربی کے محاورہ کے ماتحت یہ تو کہتے ہیں کہ عَرَفَ رَبِّه بندہ نے اپنے رب کو پہچان لیا۔مگر یہ نہیں کہتے کہ عَرَفَ عَبْدَة - اللہ نے بندہ کو پہچان لیا۔بلکہ خدا تعالیٰ کی نسبت علم کا لفظ استعمال کرتے ہیں کیونکہ خدا کو کسی فکر اور غور کی ضرورت نہیں۔پس خدا تعالٰی کے علم کے متعلق عرفان کا لفظ نہیں بولا جا سکتا بلکہ یہ بندہ کے علم کے متعلق ہی بولا جاتا ہے۔عرفان کے معنی یہ ہوئے کہ فکر، غور اور تدبر کے بعد انسان کو خدا تعالیٰ کی ہستی کا علم حاصل ہو اور وہ اپنے رب کو پہچان لے۔پہچاننے کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ وہ باتیں جو کسی میں خاص طور پر پائی جاتی ہیں اور دوسروں سے ممتاز کرتی ہیں ان کے ذریعہ سے اس کی شناخت کرے۔مثلاً اگر کہا جائے کہ زید