انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 482 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 482

ر العلوم جلد - ۳ ۴۸۲ ذکراتی لوگ اس کو سن کر کہہ دیں کہ یہ تو معمولی بات ہے اور ہم پہلے سے ہی اس کو جانتے ہیں۔لوگوں کے دلوں کا حال تو سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جانتا۔مگر میں موجودہ حالات کے لحاظ سے کہہ سکتا ہوں اور کہتا ہوں کہ اس مضمون میں بہت سی باتیں ایسی بیان کی جائیں گی جن کو اکثر لوگ نہیں جانتے اور جن کو میں نے کسی کتاب میں بھی نہیں دیکھا۔چونکہ مضمون ایسا عام ہے کہ اس کے ہیڈنگ کو سن کر اکثر لوگ کہہ دیں گے کہ یہ تو معمولی اور پہلے کا جانا ہوا ہے۔اس لئے میں اس کے سنانے سے قبل یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ مضمون نہایت ضروری اور اہم ہے اس لئے اس کو غور سے سنئے۔اگر اللہ تعالٰی نے توفیق دی تو میں اس میں بہت سی باتیں ایسی بیان کروں گا کہ اگر آپ لوگ نوٹ کر کے ان پر عمل کریں گے تو خدا تعالٰی ان کو تمہارے لئے بہت خیر اور خوبی کا موجب بنائے گا۔مگر پیشتر اس کے کہ میں اصل مضمون کو شروع کروں ایک اور بات سنا دینا چاہتا ہوں جو یہ ہے۔وه بعض لوگ جو جلسہ میں شامل ہونے کے لئے آتے جلسہ پر آکر فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں وہ ادھر ادھر پھر کر اپنا وقت گزار دیتے ہیں یہ بہت بری بات ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کو روپیہ اس لئے نہیں دیا کہ ضائع کریں۔اگر انہوں نے یہاں آکر بے کار ہی پھر نا تھا تو ان کو یہاں آنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔جو لوگ یہاں آتے ہیں تکلیف اٹھا کر اور روپیہ خرچ کر کے اس لئے آتے ہیں کہ کچھ سنیں اور فائدہ اٹھا ئیں۔لیکن مجھ تک یہ شکایت پہنچی ہے کہ لیکچراروں کے لیکچر دینے کے وقت کئی لوگ اٹھ کر اس لئے چلے جاتے ہیں کہ یہ باتیں تو ہم نے پہلے ہی سنی ہوئی ہیں۔ایسے لوگوں کو میں کہتا ہوں کہ اگر ان کی یہ بات درست ہے کہ جو بات سنی ہوئی ہو اسے پھر نہیں سننا چاہئے تو پھر انہیں قرآن کریم بھی بار بار نہیں پڑھنا چاہئے اور ایک دفعہ پڑھ کر چھوڑ دینا چاہئے۔اسی طرح نماز اور روزہ کے متعلق بھی کرنا چاہئے۔لیکن یہ درست نہیں ہے۔پس اگر کوئی ایسی بات سنائی جا رہی ہو جو پہلے بھی سنی ہو۔تو اسے بھی پورے شوق اور دلی توجہ کے ساتھ سننا چاہئے کیونکہ اس طرح بھی بہت فائدہ ہوتا ہے۔اور وہ بات پورے طور سے قلب پر نقش ہو جاتی ہے۔پھر اگر مجلس سے ایک اٹھتا ہے تو دوسرا بھی اس کو دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور تیسرا بھی۔اسی طرح بہت سے لوگ اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں جو بہت بری بات ہے۔ہاں اگر کسی کو اٹھنے کی سخت ضرورت ہو۔مثلاً پیشاب یا پاخانہ کرنا ہو تو وہ اٹھے اور باہر چلا جائے۔مگر چاہئے کہ اپنی حاجت کو پورا کر