انوارالعلوم (جلد 3) — Page 304
۳۰۴ نصائح مبلغین دیا کہ ہمارا بھانجہ کبھی ہمارے گھر میں نہ آئے۔ایک روز چند صحابہ کبار نے باریابی کی اجازت چاہی جو انہیں دی گئی۔ان میں صدیقہ کے بھانجے بھی شامل تھے۔اور وہ بھی اندر چلے گئے۔دیکھا صادقوں کی صحبت نے کیا فائدہ دیا۔اسی طرح دیکھا گیا ہے کہ اچھی جنس کے ساتھ ادنی جنس مل کر بک جاتی ہے۔دوسرا ذریعہ نفس کا محاسبہ ہے۔یعنی ہر روز تم اپنے کاموں پر ایک تنقیدی نظر کرو۔اور دیکھو کہ تمہاری حرکت دنیا کی طرف ہے یا دین کی طرف اور آیا کوئی کام اللہ کی نافرمانی کا تو نہیں کیا اور پھر اس کی اصلاح کرو۔اللہ تعالٰی فرماتا ہے۔يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا الله ین وَلَتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ، وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (الحشر: (19) اے مومنو! تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔اور وہ تقویٰ یوں حاصل ہو گا کہ ہر جان نظر کرتی رہے کہ اس نے کل کے لئے کیا کیا اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے خبر رکھنے والا ہے۔جو شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرا نگران حال ہے۔اور اپنے اعمال پر نظر ثانی کرتا ہے اور دیکھتا رہتا ہے کہ میں نے روز فردا کے لئے کیا تیاری کی ہے وہ متقی بن جاتا ہے۔تیسرا ذریعہ گناہوں پر پشیمانی یعنی تو بہ ہے۔التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ (ابن ماجه کتاب الزہد باب ذکر التوبہ) جو شخص اپنے گناہوں پر پشیمانی کا اظہار کرتا ہے۔وہ ان کے بد نتائج سے محفوظ رہتا ہے۔اور آئندہ کے لئے نیکی و تقویٰ کے واسطے اپنے آپ کو تیار کرتا ہے اور شیطان کے مزید حملوں سے محفوظ ہو جاتا ہے۔حضرت معاویہ کی نماز فجر قضاء ہو گئی اس پر ان کو اس قدر پریشانی ہوئی اور اس قدر وہ خدا کے حضور روئے اور چلائے کہ انہیں ایک نماز کے بدلے دس نمازوں کا ثواب ملا۔دوسرے روز کسی نے انہیں اٹھایا پوچھا تو کون ؟ کہا میں تو شیطان ہوں۔انہوں نے تعجب کیا کہ نماز کے لئے شیطان بیدار کرے۔اس نے کہا۔اگر میں نہ اٹھاؤں تو آپ ایک نماز کے بدلے دس نمازوں کا ثواب پائیں۔غرض تم اپنی کسی لغزش پر اس قدر پشیمانی ظاہر کرو کہ تمہارا شیطان مسلمان ہو جائے۔چوتھا ذریعہ تمام کاموں میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا رہے۔حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص رات بھر سوچتا رہے اور کہے کہ ابن عمر میرا کام کر دے گا۔تو خواہ مخواہ میری توجہ اس طرف ہو گی۔اسی طرح جو انسان اللہ تعالیٰ کو اپنا سہارا ہر امر میں ٹھہراتا ہے اللہ تعالیٰ