انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 613 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 613

۶۱۳ سے ہمیں پورا پورا اتفاق ہے۔(مرزا محموداحمد) ۵۹۔مقام نبوت سے مراد اس جگہ منصب نبوت ہے کیونکہ ایک اور جگہ حضرت صاحب نے تصریح کے ساتھ منصب نبوت پانے کا ذکر فرمایا ہے چنانچہ الہام یلقی الروح علٰی من یشاء من عبادہٖ۔کلّ برکۃ من محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم فتبارک من عَلَّمَ وَتَعَلَّم۔خدا کی فیلنگ اور خدا کی مُہر نے کتنا بڑا کام کیا۔لکھ کراس کاترجمہ ان الفاظ میں فرماتے ہیں:۔جس پر اپنے بندوں میں سے چاہتا ہے اپنی رُوح ڈالتا ہے یعنی منصب نبوت اسکو بخشتا ہے اور یہ تو تمام برکت محمد ﷺسے ہے۔پس بہت برکتوں والا ہے جس نے اس بندہ کو تعلیم دی اور بہت برکتوں والا جس نے تعلیم پائی۔خدا نے وقت کی ضرورت محسوس کی اور اسکے محسوس کرنے اور نبوت کی مُہر نے جس میں بشدت قوت کا فیضان ہے۔بڑا کام کیا یعنی تیرے مبعوث ہونے کے دو باعث ہیں(۱) خدا کا ضرورت کو محسوس کرنا اور آنحضرتؐ کی مُہرنبوت کا فیضان۔۶۰۔حضرت محی الدین صاحب ابن عربی فرماتے ہیں کہ وہ لوگ رسالت کے درجہ تک پہنچ گئے تھے گو ان کو الله تعالی نے رسالت کے ساتھ مبعوث نہیں کیا اس بات میں بھی مسیح موعود میں اور ان میں ایک فرق ہے کیونکہ مسیح موعود کی نسبت اللہ تعالی نے فرمایا ہے ان ارسلنا احمد الیٰ قَوْ مِهٖ فاعرضوا وقالو ا کذاب اشر پس آپ کو خدا تعالی نے رسول کرکے مبعوث بھی کیا ہے اور اس طرح آپ کی رسالت ممتاز ہے دوسروں سے۔منہ ۶۱۔یہ ضرور یاد رکھو کہ اس امت کے لئے وعدہ ہے کہ وہ ہر ایک ایسے انعام پائے گی جوپہلے نبی اورصدیق پا چکے پس منجملہ ان انعامات کے ده نبوتیں اورپیشگوئیاں ہیں جن کے رو سے انبیاء علیھم السلام نبی کہلاتے رہے لیکن قرآن شریف بجز نبی بلکہ رسول ہونے کے دو سروں پر علوم غیب کا دروازہ بند کرتا ہے جیساکہ آیت لايُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ سے ظاہر ہے پس مصفیٰ غیب پانے کے لئے نبی ہونا ضروری ہوا اور آیت انعمت علیھم گواہی دیتی ہے کہ اس مصفیٰ غیب سے یہ امت محروم نہیں اورمصفیٰ غیب حسب منطوق آیت نبوت اور رسالت کو چاہتا ہے اور دو طریق براه راست بند ہے اس لئے ماننا پڑتا ہے کہ اس موہبت کے لئے محض بروزاور ضلیت اور فنا فی الرسول کا دروازہ کھلا ہے۔فتدبر منہ ۶۲۔یہ کیسی عمدہ بات ہے کہ اس طریقے سے نہ تو خاتم النبیین کی پیشگوئی کی مہرٹوٹی اورنہ امت کے کل افراد نبوت سے جو آیت لا يظهر علیٰ غیبہ کے مطابق ہے محروم رہے مگر حضرت عیسیٰ کو دوباره اتارنے سے جن کی نبوت اسلام سے چھ سو برس پہلے قرار پاچکی ہے اسلام کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا اور آیت خاتم النبیین کی صریح تکذیب لازم آتی ہے اسکے مقابل پر ہم صرف مخالفوں کی گالیاں سنیں گے سو گالیاں دیں وَسَيَعْلَمُ الَّـذِيْنَ ظَلَمُـوٓا اَىَّ مُنْقَلَبٍ يَّنْقَلِبُوْنَ (الشعراء:۲۲۸ ) ۶۳۔یہ بات میرے اجداد کی تاریخ سے ثابت ہے کہ ایک دادی ہماری شریف خاندان سادات سے اور بنی فاطمہ میں سے تھی اس کی تصدیق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کی اور خواب میں مجھے فرمایا کہ سلمان منا اھل البیت علٰی مشرب الحسن۔میرا نام سلمان رکھا یعنی دو سِلم۔اور سِلم عربی میں صلح کو کہتے ہیں یعنی مقدر ہے کہ دو صلح میرے ہاتھ پر ہوں گی۔ایک اندرونی کہ جو اندرونی بغض اور شحنا کو دور کرے گی دوسری بیرونی کہ جو بیرونی عداوت کے وجوہ کو پامال کر کے اور اسلام کی عظمت دکھا کر غیر مذہب والوں کو اسلام کی طرف جھکا دے گی۔معلوم ہوتا ہے کہ حدیث میں جو سلمان آیا ہے اس سے بھی میں مراد ہوں ورنہ اس سلمان پر دو صلح کی پیشگوئی صادق نہیں آتی۔اور میں خدا سے وحی پاکر کہتا ہوں کہ میں بنی فارس میں سے ہوں اور بموجب اُس حدیث کے جو کنز العمال میں درج ہے بنی فارس بھی بنی اسرائیل اور اہل بیت میں سے ہیں اور حضرت فاطمہ نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا اور مجھے دکھایا کہ میں اس میں سے ہوں چنانچہ یہ کشف براہین احمدیہ میں موجود ہے۔۶۴۔پچنانچہ جو فقرہ بطور سند منکرین نبوت پیش کرتے ہیں خود اس کے ساتھ ہی حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں بل ھی درجة لا تعطی الا من اتباع نبینا خیر الوریجس سے صاف ثابت ہے کہ آپ کی مراد یہی ہے کہ مجھے وہ رسالت ملی ہے جو صرف رسول الله کی اتباع سے ملتی ہے نہ یہ کہ پہلے نبیوں کی نبوت تونبوت تھی۔اور آپ کی نبوت نبوت نہ تھی۔منہ۔۶۵۔غالباً مولوی صاحب کا یہی مذہب ہے کہ حضرت مسیح موعود کے کسی حکم کی وجہ اگر ثابت ہو جائے تو اسے ماننا چاہئے ورنہ نہیں۔منہ