انوارالعلوم (جلد 2) — Page 514
۵۱۴ ہیں۔اور ان تمام پیشگوئیوں میں جہاں جہاں اسے نبی کر کے یاد کیا گیا ہے۔ان سب مقامات کی یہ تاویل کر سکتے ہیں۔کہ نبی سے مراد نبی نہیں بلکہ کسی مشابہت کی وجہ سے نبی کہہ دیا گیا ہے۔آخرتاویل کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ہزاروں سال پہلے ایک نبی ہند میں مسیح موعود کونبی قرار دیتا ہے۔تو ایک فارس میں اور ایک شام میں۔لیکن باوجود دنیا کے عظیم الشان انبیاء کی پیشگوئیوں کے اور اسےنبی کہنے کے۔وہ پھر بھی غیرنبی کاغیرنبی ہی رہا۔اور سب باتوں کو جانے دو۔صرف اسی امر کو لے کراس پر غور کرو کہ کیا عقل اس بات کو باو رکر سکتی ہے یہ عجیب غیرنبی ہے کہ نبیوں سے زیا دہ اس کی نسبت ہزار ہا سال سے خبریں دی گئیں ہیں۔اور کل دنیا کو اس کے انتظار کا شوق لگایا گیا ہے۔لیکن جب وہ آتا ہے تو ایک غیرنبی کا غیرنبی اور ایک معمولی مجدد۔نہ اسے نبی کہہ سکتے ہیں نہ رسول اور پھرتعجب یہ ہے کہ نہ صرف اس آنے والے کی نسبت پہلے نبیوں نے نبوت ہی کی ہے۔بلکہ اسے نبی کر کےسب پکارتے آئے ہیں۔مگر ہمیں بتایا جا تا ہے کہ سب کا منشا ء نبی سے کچھ اور بھی تھا۔در حقیقت مسیح موعود نبی نہیں ہو سکتا۔میں یقیناًکہہ سکتا ہوں کہ اگر کوئی شخص مخلى بالطبع ہو کر اس بات پر غورکرے گا تو اسے اس خیال کی لغویت خودی معلوم ہو جائے گی۔اور روز روشن کی طرح اس پر ظاہرہو جائے گا کہ مسیح موعود ضرورنبی ہے کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک شخص کا نام قرآن کریم نبی رکھے۔آنحضرت ﷺ نبی رکھیں۔کرشن نبی رکھے - زرتشت نبی رکھے۔دانیال نبی رکھے۔اورہزاروں سالوں سے اس کے آنے کی خبریں دی جارہی ہوں۔لیکن باوجود ان سب شہادتوں کے وہ پر بھی غیر نبی کا غیر نبی ہی رہے اور سب پچھلے نبیوں کی بات قرآن کریم کی شہادت۔اور آنحضرتﷺکے فرمان کی تاویل کرلی جائے اگر تاویل ہی کرنی ہے تو کیوں اپنے خیالات اور گمانوں کی تاویل نہ کی جائے اور کیوں بلا سبب اس قدر شہادتوں کو ان کی حقیقت سے پھیر دیا جائے ؟ اوراس قدر زبردست ثبوتوں سے منہ پھیر لیا جائے۔(۴) چوتھی شہادت حضرت مسیح موعود کی نبوت کے متعلق خود آپ کی وحی اورالہامات ہیں جن میں کثرت سے آپ کو نبی کا خطاب دیا گیا۔اور بعض ان میں سے ایسے ہیں جو آپ کو بار بار الہام ہوئے ہیں پس کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالی ٰنے آپ کو سینکڑوں دفعہ نبی کا خطاب دیا ہے وحی الہٰی جس میں نبی یا رسول کا خطاب دیا گیا ہے ہم ذیل میں درج کرتے ہیں۔(1) هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ (۲) انی لا یخاف لدی المرسلون (۳) كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْؕ(۴)جری اللہ فی حلل الانبیاء (۵)ما ارسلنٰک الا رحمة للعٰلمین(۶) دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔لیکن خدا سے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا