انوارالعلوم (جلد 2) — Page 349
۳۴۹ اصطلاحی معنوں کی رو سے جو حضرت مسیح موعودؑنے حقیقی نبی کے کئے ہیں آپ کو حقیقی نبی نہیں جانتالیکن باوجوداس تحریر کے اسی رسالہ کے جواب میں جس میں میری یہ عبارت درج ہے میری نسبت لکھا جا تا ہے کہ میاں صاحب فی الحقیقت مرزا صاحب کو حقیقی نبی مانتے ہیں اس سے بڑھ کر ظلم کیا ہوسکتا ہے اور اس سے بد تر تحریف کا نمونہ اور کہاں مل سکتا ہے میں ان تمام سمجھدار لوگوں سے جومیرے مقابلہ کے لئے صرف ضد اور تعصب سے نہیں بلکہ غلط فہمی سے کھڑے ہوۓ ہیں پوچھتاہوں کہ کیا اس حکم کی تحریفوں سے کام لے کر دنیا میں کسی مسئلہ کا فیصلہ ہو سکتا ہے؟ کیا اس طریق سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو سکتی ہے؟ کیا اسلام کی یہی تعلیم ہے؟ کیا انصاف کا تقاضا یہی ہے؟ کیا شرافت اسی کانام ہے؟ کیاعدل اسی کا طالب ہے؟ اگر نہیں تو بتاؤ کہ میرے مقابلہ میں ایسا کیوں کیا جاتا ہے؟ میں ایک بات کا انکار کرتا ہوں اور پھروہی میری طرف منسوب کی جاتی ہے اور انکار کے باوجود مجھ پر اقرار کا الزام لگایا جاتا ہے میں نے تو اپنے رسالہ میں صاف لکھ دیا ہے کہ حضرت مسیح مو عود ؑنے حقیقی نبوت کے جو معنی کئے ہیں ان کے روسے میں آپ کو ہر گز حقیقی نبی نہیں مانتا اور میرا کبھی بھی یہ ایمان نہیں ہوا کہ آپ کوئی نئی شریعت لانے والے ہیں۔میرا یہ مذہب ہے کہ آپ اپنی وفات تک احکام اسلام کی پیروی کے پابند تھے بلکہ میرا یہاں تک مذہب ہے کہ تیرا سو سال میں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ سے آج تک امت محمدیہ میں کوئی ایساانسان نہیں گذرا جو آنحضرت ﷺ کاایسا فدائی اور ایسامطیع اور ایسا فرمانبردار ہو جیسا کہ حضرت مسیح موعود ؑتھے۔اور یہی سبب تھاکہ آپ کو ان سب بزرگوں پر جو آپ سے پہلے گذرے فضیلت دی گئی کیونکہ امت محمدیہ میں فضیلت کا ایک معیار ہے اور وہ یہ کہ ان کنتم تحبون الله فاتبعونی یحببکم اللہ( ال عمران :۳۲) یعنی انسان آنحضرت ﷺ کامتبع اور فرمانبردار ہو۔پس جب میں یہ کہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعودؑ کو اللہ تعالیٰ نے اس امت میں سب انسانوں پر فضیلت دی ہے تو اسکے دوسرے معنی یہ بھی ہیں کہ اس امت میں حضرت مسیح موعودؑ سے زیادہ آنحضرت ﷺ کا کوئی متبع نہیں ہؤا۔اور آپ نے جس مقام فناء کو پایا اس کے حصول میں اور کوئی انسان کامیاب نہیں ہوا۔پس میرے اس عقیدہ کے باوجود مجھ پر الزام کیوں لگاتے ہو جو واقعات کے خلاف ہے۔اور کیوں کسی عبارت کےمعنی کرنے کے لئے ایسے اصول بناتے ہو۔جن کے ماتحت جیسا کہ میں اوپر بتا آیا ہوں خود حضرت مسیح موعودؑ بلکہ کل انبیاء اور علماء کو کافر و مرتد قرار دیناپڑے۔پس اس دلیری سے توبہ کرو تا تمہارا بھلا ہو اور اس راستہ کو اختیار کرو جو امن کا ہو نہ اسے جس سے سب راستبازوں اور صادقوں کو