انوارالعلوم (جلد 2) — Page 306
۳۰۶ میں کسی انکار کی گنجائش نہ ہو۔پس اگر اُس وقت آپ کے خیالات اِس کے خلاف ہوتے تو آپ کیوں بیعت سے انکار نہ کر دیتے۔خواجہ صاحب! اور امور میں میں خیال کر سکتا ہوں کہ آپ کو غلطی لگی ہوگی لیکن اس امر میں میں ایک منٹ کے لئے بھی خیال نہیں کر سکتا کہ آپ غلطی سے یہ اثر قارئین ٹریکٹ کے دل پر ڈالنا چاہتے ہیں کہ آپ خلیفہ اوّل کی وفات تک ان کے سامنے اظہار کرتے رہے کہ آپ خلافت کے قائل نہیں ہیں اور یہ کہ چھوٹی مسجد کی چھت پر آپ سے جو بیعت لی گئی وہ خوشنودی کی بیعت تھی۔میرے کانوں میں یہ الفاظ گونج رہے ہیں کہ جس نے یہ لکھا ہے کہ خلیفہ کا کام بیعت لینا ہے اصل حاکم انجمن ہے وہ توبہ کر لے۔خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ اگر اس جماعت میں سے کوئی تجھے چھوڑ کر مرتد ہو جائے گا تو میں اس کے بدلے تجھے ایک جماعت دوں گا اور آپ جانتے ہیں کہ وہ شخص جس نے یہ الفاظ لکھے تھے کون تھا۔ہاں یہ الفاظ بھی میرے کانوں میں اب تک گونج رہے ہیں کہ دیکھو میں اس انجمن کی بنائی ہوئی مسجد پر بھی نہیں کھڑا ہوا بلکہ اپنے میرزا کی بنائی ہوئی مسجد پر کھڑا ہوں اور یہ وہ الفاظ تھے جن کو سن کر لوگوں کی چیخیں نکل گئی تھیں وہ لوگ اب تک زندہ ہیں جن کو سمجھا کر آپ لاہور سے لائے تھے اور جن کو الگ الگ حضرت خلیفہ اوّل نے سخت ڈانٹ پلائی تھی… خود مجھ سے دیر دیر تک آپ کی اس بغاوت کے متعلق حضرت ذکر فرمایا کرتے تھے اور سخت الفاظ میں اپنے رنج کا اظہار فرمایا کرتے تھے بلکہ یہی نہیں میں آپ کے دوستوں کے ہاتھ کے لکھے ہوئے خطوط پیش کر سکتا ہوں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت خلیفہ اوّل اس معاملہ میں آپ پر سخت ناراض تھے۔وفات سے کچھ دن پہلے جلسہ کی خوشی میں جو اعلان کیا اس میں بھی اس واقعہ کا ذکر ان الفاظ میں موجود ہے۔’’جب ایک دفعہ خلافت کے خلاف شور ہوا تھا تو مجھے اللہ تعالیٰ نے رؤیا میں دکھایا تھا‘‘۔اور آپ جانتے ہیں کہ یہ رؤیا مسجد کی چھت پر اسی جلسہ میں جس میں آپ فرماتے ہیں کہ مجھ سے بیعت ارشاد لی، سنائی تھی اور وہ کون تھے جنہوں نے خلافت کے خلاف شور مچایا تھا۔خلافت کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح کی بہت سی تحریریں موجود ہیں اور وہ شائع ہو چکی ہیں۔جب آپ ملتان ایک مقدمہ میں گواہی دینے کے لئے تشریف لے گئے تھے تو آپ نے ان الفاظ میں اپنی شہادت کو شروع کیا تھا۔’’میں حضرت مرزا صاحب کا خلیفہ اوّل ہوں۔جماعت احمدیہ کا لیڈر ہوں‘‘۔پھر آپ اپنی ایک تقریر میں فرماتے ہیں:۔