انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 230

۲۳۰ ضروریات ہیں جن کا پورا کرنا تمہار ا فرض ہے اور مجھے امید ہے کہ تم اپنی طاقت کے مطابق کوشش سے دریغ نہ کرو گے۔مگر اب بات جو دین کی خدمت کے متعلق قرآن کریم میں آئی ہے وہ تمہیں سنائے دیتا ہوں۔اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے مسلمانو! خبر دار اپنے کام میں کبھی سست نہ ہو نا اور دینی کاموں میں تکلیف کا کبھی خیال مت کرنا کیونکہ ــ’’ اِنْ تَکُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّھُمْ یَاْلَمُوْنَ کَمَا تَاْلَمُوْنَ وَتَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا یَرْجُوْنَ۔‘‘( النساء :۱۰۵)اگر تم کو کوئی دکھ یا تکلیف پہنچتی ہے تو کفار کو بھی اسی طرح تکلیف پہنچتی ہے جس طرح تم کو پہنچتی ہے اور تم تو اﷲ تعالیٰ سے ان انعامات کے امید وار ہو جن کی انہیں امید نہیں پس تم بھی اس بات کو خوب یاد رکھو بے شک ان آئے دن کے چندوں سے تم کو تکلیف ہوتی ہوگی مگر اسلام کے دشمن بھی اسی طرح اسلام کے برباد کرنے کے لئے اپنی جانیں اور اپنے مال خرچ کر رہے ہیں۔پس تکلیف میں تم اور وہ برابر ہو۔ہاں تم جن انعامات کے امید وار ہو وہ نہیں۔پس کیسے افسوس کی بات ہوگی اگر تم باوجود اس قدر امیدوں کے تھک جاؤ اور دشمن باوجود ہر قسم کی مایوسی کے اپنی محنت نہ چھوڑے اور اپنے کام میں لگا رہے اور جھوٹ کے پھیلانے کے لئے ہر ایک قسم کی تکلیف برداشت کرے۔تمہارے لئے خدا تعالیٰ کے انعاموں کا دروازہ کھلا ہے جس قدر حاصل کر سکتے ہو کر لو۔اس وقت روپیہ کی ضرورت ہے۔خدا تعالیٰ اپنے کام کو آپ ہی چلاتا ہے وہ کسی کی مدد کا محتاج نہیں مگر یہ ایک خدمت کا موقع ہے جو اس نے ہماری جماعت کو دیا ہے اور یہ اس کا فضل ہے ورنہ اس کے کام تو بہر حال چلیں گے۔کچھ لوگ نکل گئے ہیں تو بھی کام چل رہا ہے۔لیکن جو خدا کا کام کرتا ہے وہ اﷲ تعالیٰ کے انصار میں داخل ہو جاتا ہے۔پس جہاں تک تم سے ہو سکے اپنی طاقت بھرکام کرتے رہو۔پچھلے سال ضلع گورداسپور کی جماعت نے چھ سا ت ہزار روپے دیئے تھے امید ہے کہ اس سال بھی علاوہ ماہوار چندوں کے وہ تین ہزار تو اور زیادہ دے گی۔انشاء اﷲ تعالیٰ باقی روپیہ کے لئے آپ کوشش کریں۔اﷲ تعالیٰ آپ لوگوں کو اس کام کے پورا کرنے کی توفیق دے جس کے لئے اس نے سلسلہ احمدیہ کی بنیاد رکھی ہے۔آمین