انوارالعلوم (جلد 2) — Page 174
۱۷۴ باپ! مال کا جو حصہ مجھ کو پہنچتا ہے مجھے دے۔اس نے اپنا مال متاع انہیں بانٹ دیا اور بہت دن نہ گزرے کہ چھوٹا بیٹا اپنا سب کچھ جمع کر کے دُور دراز مُلک کو روانہ ہوا اور وہاں اپنا مال بَد چلنی میں اُڑا دیا اور جب سب خرچ کر چکا تو اس مُلک میں سخت کال پڑا اور وہ محتاج ہونے لگا۔پھر اس مُلک کے ایک باشندہ کے ہاں جا پڑا۔اس نے اس کو اپنے کھیتوں میں سؤر چرانے بھیجا اور اسے آرزو تھی کہ جو پھلیاں سؤر کھاتے تھے انہیں سے اپنا پیٹ بھرے مگر کوئی اسے نہ دیتا تھا۔پھر اس نے ہوش میں آ کر کہا کہ میرے باپ کے کتنے ہی مزدوروں کو روٹی افراط سے ملتی ہے اور میں یہاں بھوکا مَر رہا ہوں۔میں اُٹھ کر اپنے باپ کے پاس جاؤں گا اور اس سے کہوں گا کہ اے باپ! میں آسمان کا اور تیری نظر میں گنہگار ہوا اب اس لائق نہیں رہا کہ پھر تیرا بیٹا کہلاؤں مجھے اپنے مزدوروں جیسا کر لے۔پس وہ اُٹھ کر اپنے باپ کے پاس چلا۔وہ ابھی دور ہی تھا کہ اسے دیکھ کر اس کے باپ کو ترس آیا اور دَوڑ کر اُس کو گلے لگا لیا اور بوسے لئے۔بیٹے نے اس سے کہا کہ اے باپ! میں آسمان کا اور تیری نظر میں گنہگار ہوا۔اب اس لائق نہیں رہا کہ پھر تیرا بیٹا کہلاؤں۔باپ نے اپنے نوکروں سے کہا کہ اچھے سے اچھا جامہ جلد نکال کر اسے پہناؤ۔اور اس کے ہاتھ میں انگوٹھی اور پاؤں میں جوتی پہناؤ۔اور پَلے ہوئے بچھڑے کو لا کر ذبح کرو تا کہ ہم کھا کر خوشی منائیں کیونکہ میرا یہ بیٹا مُردہ تھا اب زندہ ہوا۔کھویا ہوا تھا اب ملا ہے۔پس وہ خوشی منانے لگے لیکن اس کا بڑا بیٹا کھیت میں تھا جب وہ آ کر گھر کے نزدیک پہنچا تو گانے بجانے اور ناچنے کی آواز سنی اور ایک نوکر کو بُلا کر دریافت کرنے لگا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ اس نے اس سے کہا تیرابھائی آ گیا ہے اور تیرے باپ نے پَلا ہوا بچھڑا ذبح کرایا ہے اس لئے کہ اسے بھلا چنگا پایا۔وہ غصے ہوا اور اندر جانا نہ چاہا مگر اس کا باپ باہر جاکے اُسے منانے لگا۔اس نے اپنے باپ سے جواب میں کہا کہ دیکھ اتنے برس سے میں تیری خدمت کرتا ہوں اور کبھی تیری حکم عدولی نہیں کی مگر مجھے تو نے کبھی ایک بکری کا بچہ بھی نہ دیا کہ اپنے دوستوں کے ساتھ خوشی مناتا لیکن جب تیرا یہ بیٹا آیا جس نے تیرا مال متاع کسبیوں میں اُڑا دیا تو اس کے لئے تُو نے پَلا ہوا بچھڑا ذبح کرایا۔اس نے اس سے کہا بیٹا تُو تو ہمیشہ میرے پاس ہے اور جو کچھ میرا ہے وہ تیرا ہی ہے لیکن خوشی منانی اور شادمان ہونا مناسب تھا کیونکہ تیرا یہ بھائی مُردہ تھا اب زندہ ہوا۔کھویا ہوا تھا اب ملا ہے‘‘۔(آیت ۱۱ تا ۳۲ مطبوعہ برتش ایدیشن فارن بائبل سوسائٹی ۱۹۲۲ انارکلی لاہور) سو میں بہت وسعتِ حوصلہ رکھتا ہوں۔اگر کوئی پچھتاتا ہوا آئے تو میں اس کی آمد پر بہ نسبت ان کے بہت خوش ہوں گا جنہوں نے پہلے دن بیعت کر لی تھی کیونکہ وہ گمراہ نہیں