انوارالعلوم (جلد 2) — Page 83
۸۳ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم مکرم و معظم جناب نواب صاحب (ادام اللہ ملککم و زادحشمتکم) السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ بیشتر اس کے کہ میں اس عر یضہ کا مضمون شروع کروں میں جناب سے یہ عرض کردینا پسند کرتاہوں کہ بوجہ ایسی آب و ہوا میں تربیت اور تعلیم پانے کے جو اللہ تعالی ٰکے فضل و کرم سے اسلامی آداب اور طرق سے مملو تھی میں طبعاً ان لفظی تکلفات سے جو مرور زمانہ سے مسلمانان ہندو ایران کے درمیان پیدا ہو گئے ہیں بیزار ہوں اس لئے اگر جناب میرے اس مکتوب کو ان الفاظ سے خالی پائیں جو عام طور پر شاہان زمانہ یا والیان ریاست کے حضور میں خطوط ارسال کرتے وقت لوگ استعمال کرتے ہیں تو مجھے معذور خیال فرمائیں کیونکہ اس کا باعث کمی ادب نہیں بلکہ اس کا موجب اسلامی سادگی ہے ورنہ میں بموجب علم قرآن شریف ان لوگوں کی عزت دل و جان سے کرتا ہوں جن کو خدا تعالی ٰنے عزت دی ہے اور ایسے انسان کو شقی خیال کرتا ہوں جس کا دل ان لوگوں کے ادب سے خالی ہو جن کو اللہ تعالی ٰنے کسی قلم کار تبہ دیا ہو کیونکہ یہ ان لوگوں کی ہتک نہیں بلکہ خوداس ذات کی گستاخی ہے جس نے ان کو کسی مرتبہ پر کھڑا کیا ہے۔اللہ تعالیٰ تو قرآن شریف میں حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے اولو العزم نبی اور ان کے بھائی حضرت ہارون ؑکو بھی حکم فرماتا ہے کہ فرعون جیسے متمرّد بادشاہ کے پاس جاؤ مگر قولالہ قولا لينا (طہ:۴۵) اس سے درشتی اور بے ادبی سے کلام نہ کرنا بلکہ نرم نرم باتیں کرنا تو پھر کیونکر ممکن ہے کہ میں ایک ایسے حاکم کی عزت نہ کروں جو میرے آقا اور محبوب آنحضرت ﷺکے خدام میں ہونے کا فخر رکھتا ہو پس رائج الوقت تکلفات کو ترک کرنا کسی سوء ادب کے باعث نہیں بلکہ اسلامی تربیت مجھے مجبور کرتی ہے کہ میں بیہودہ تکلفات سے علیحدہ رہوں ورنہ میں تو غیر مذہب کے بادشاہوں اور رئیسوں کا ادب بھی