انوارالعلوم (جلد 26) — Page 647
انوار العلوم جلد 26 647 پیغامات زیادہ تو فیق عطا فرما تا رہے۔انصار اللہ کی تنظیم در حقیقت اسی غرض کیلئے کی گئی ہے کہ آپ لوگ خدمت دین کا پاک اور بے لوث جذ بہ اپنے اندر زندہ رکھیں اور وہ امانت جسے آپ نے اپنے بچپن اور جوانی میں سنبھالا، اُسے ہر قسم کے خطرات سے محفوظ رکھا اس کی اب پہلے سے بھی زیادہ نگہداشت کریں اور اپنے بچوں اور نوجوانوں کو بھی اپنے قدم بقدم چلانے کی کوشش کریں۔بیشک ان کی تنظیمیں الگ ہیں لیکن اطفال احمد یہ آخر آپ کے ہی بچے ہیں اور خدام بھی کوئی علیحدہ وجود نہیں آپ لوگوں کے ہی بیٹے اور بھائی ہیں۔پس جس طرح ہر باپ کا فرض ہے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت کرے اسی طرح انصار اللہ کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنی جماعت کے بچوں اور نوجوانوں کے حالات اور ان کے اخلاق کا جائزہ لیتے رہیں۔اور اگر خدانخواستہ ان میں کوئی کمزوری دیکھیں تو نرمی اور محبت کے ساتھ اس کو دور کرنے کی کوشش کریں۔اور اپنی ظاہری جد و جہد کے ساتھ ساتھ دعاؤں سے بھی اللہ تعالیٰ کی تائید اور اُس کی نصرت کو جذب کریں۔اور سب سے بڑھ کر اپنا نیک نمونہ ان کے سامنے پیش کریں تا کہ ان کی فطرت کا مخفی نور چمک اٹھے اور دین کیلئے قربانی اور فدائیت کا جذبہ ان میں ترقی کرے۔اگر جماعت کے یہ تینوں طبقات اپنی اپنی ذمہ داری کو سمجھنے لگ جائیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری قومی زندگی ہمیشہ قائم رہ سکتی ہے۔افراد بیشک زندہ نہیں رہ سکتے لیکن قوم اگر اپنے آپ کو روحانی موت سے محفوظ رکھنا چاہے تو وہ محفوظ رکھ سکتی۔پس کوشش کرو کہ خدا تمہیں دائمی روحانی حیات بخشے۔کوشش کرو کہ تم اپنے پیچھے نیک پاک نسلیں چھوڑ کر جاؤ تا کہ جب تمہاری موت کا وقت آئے تو تمہاری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور تمہاری زبان اللہ تعالیٰ کی حمد کر رہی ہو۔ہے۔تمہیں یہ امر بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ ہر زمانہ میں حالات کے بدلنے کے ساتھ خدمت دین کے تقاضے بھی بدل جایا کرتے ہیں۔اس زمانہ میں عیسائیت کا فتنہ سب سے بڑا فتنہ ہے جس کے استیصال کیلئے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا اور کسر صلیب کا کام آپ کے سپر د فر مایا۔پس اس زمانہ میں سب سے بڑی نیکی خدائے واحد