انوارالعلوم (جلد 26) — Page 627
انوار العلوم جلد 26 627 پیغامات کرتے رہو۔اور ہمیشہ ان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھو اور ایسے بلند اخلاق کا مظاہرہ کرو کہ وہ تمہیں انسانوں کی صورت میں خدا تعالیٰ کے فرشتے سمجھنے لگ جائیں۔یہ امر یا درکھو کہ ہم لوگ کسی سوسائٹی کے ممبر نہیں جو محد و د مقاصد کے لئے قائم کی جاتی ہے بلکہ ہم ایک مذہب کے پیرو ہیں۔اور مذہب تعلق باللہ اور شفقت علی خلق اللہ کے مجموعہ کا نام ہوتا ہے۔پس جس طرح تعلق باللہ کے بغیر کوئی قوم مذہب سے سچا تعلق رکھنے والی قرار نہیں دی جا سکتی اسی طرح شفقت علی خلق اللہ کے بغیر بھی کوئی مذہب سچا مذ ہب نہیں کہلا سکتا۔اور شفقت علی خلق اللہ کے دائرہ میں ایک ہندو اور سکھ وغیرہ بھی اُسی طرح داخل ہے جس طرح ایک مسلمان۔پس میں آپ لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے ہمسایوں یعنی ہندو اور سکھ اصحاب سے ہمیشہ اچھے تعلقات رکھو اور اُن کی خوشی میں اپنی خوشی اور اُن کی تکلیف میں اپنی تکلیف محسوس کرو۔یہی وہ تعلیم ہے جو اسلام نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہمیں دی ہے اور جس کی وجہ سے اسلام کو دنیا کے تمام مذاہب پر فوقیت حاصل ہے۔اسلام کوئی قومی مذہب نہیں بلکہ ایک عالمگیر مذہب ہے جو دنیا کے تمام افراد کو اپنے دائرہ ہدایت میں شامل کرتا ہے۔پس جس طرح مسلمان ہمارے بھائی ہیں اُسی طرح ہندو اور سکھ بھی انسانیت کے وسیع حلقہ میں ہمارے بھائی ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ان سے برادرانہ تعلقات رکھیں اور اُن سے لطف و مدارات کا سلوک کریں۔اگر کوئی شخص اپنی نادانی کی وجہ سے ہم سے عنا درکھتا ہے تو یہ اس کا ایک ذاتی فعل ہے جس کا وہ خود ذمہ دار ہے۔ہماری طرف سے کسی کی دل آزاری نہیں ہونی چاہئے اور نہ کسی کو تکلیف پہنچانے کا خیال ہمارے دلوں میں آنا چاہئے۔ہمارا کام یہ ہے کہ ہم بدی سے نفرت رکھیں لیکن بد کی اصلاح کے لئے اُس سے محبت اور پیار کا سلوک کریں کیونکہ آخر وہ ہمارا بھائی ہے اور اُس کی اصلاح ہمارے لئے خوشی کا موجب ہے۔- پنجاب میں جن دنوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی کے مطابق طاعون کا مرض بڑے زور سے پھیلا ہوا تھا اور لاکھوں لوگ لقمہ اجل ہورہے تھے اُن دنوں مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم بیان فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ مجھے بیت الدعا سے یعنی