انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xlix of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page xlix

انوار العلوم جلد 26 38 تعارف کنند 17 مئی 1959ء کو اپنی اولا د اور احباب جماعت کے نام پیغام میں فرمایا: ”میری نعش، میری اماں جان کی نعش اور میری بیویوں کی نعشوں کو قادیان پہنچانا تمہارا فرض ہے۔میں نے ہمیشہ تمہاری خیر خواہی کی تم بھی میری خواہش پوری کرنا۔اللہ تعالیٰ تمہارا حافظ و ناصر ہو اور تمہیں عزت بخشے۔میں ساری جماعت احمدیہ کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنی زندگیوں کو خدا اور رسول کے لئے وقف کریں اور قیامت تک اسلام کے جھنڈے کو دنیا کے ہر ملک میں اونچا ھیں۔خدا تعالیٰ ان کے ساتھ ہو ، ان کی مدد کرے اور اپنی بشارتوں سے ان کو نوازے۔میں امید کرتا ہوں کہ یورپ کے نئے احمدی اپنی جان اور مال سے ایشیا کے پرانے احمدیوں کی مدد کریں گے اور تبلیغ کے فریضہ کو ادا کرتے رہیں گے یہاں تک کہ اسلام ساری دنیا پر غالب آجائے۔“ 19 مئی 1959ء کے پیغام میں جماعت کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: " میں وصیت کرتا ہوں کہ احمدی جماعت ہمیشہ شیطان کا سر کچلنے کے لئے مستعد رہے اور دنیا کے چاروں کونوں تک اسلام کو پھیلائے۔اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہو۔ان کے کام میں برکت دے اور ان کی نیتوں کو صاف رکھے۔اور وہ کسی پر ظلم کرنے والے نہ بنیں بلکہ ہمیشہ عدل اور رحم اور انصاف کو قائم رکھیں اور ان کا یہ طریق عیسائیوں کے طریق کی طرح زبانی نہ ہو بلکہ حقیقی ہو۔وہ عیسائیوں کی طرح آپس میں اس طرح نہ لڑیں جیسے دو جانور لڑتے ہیں بلکہ دنیا میں اسلامی اتحاد کو اور آسمان پر خدا کی تو حید کو قائم رکھیں۔آدم اول کے بعد دنیا نے بڑے گناہ کئے خدا کرے آدم ثانی یعنی مسیح موعود کے ذریعہ سے ایسی دنیا قائم ہو جو قیامت تک خدا تعالیٰ کے نام کو روشن رکھے " 29 دسمبر 1959 ء کو برادرانِ اسلام کے نام پیغام میں فرمایا: " خدا تعالیٰ آپ کو توفیق دے کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی امت بنیں اور آپ کے اقوال کی پیروی کریں ورنہ خدا تعالیٰ غنی ہے اُسے بندوں کی پرواہ نہیں۔محتاج انسان ہے وہ محتاج نہیں۔پس دوڑیں اور خدا کے بھیجے ہوئے مامور پر ایمان لائیں۔یاد