انوارالعلوم (جلد 26) — Page xlvii
انوار العلوم جلد 26 36 تعارف کتب خالص روحانی ماحول میں اللہ اور اس کے رسول کی باتیں سن کر ایمانوں کو تازہ کرنے اور دین کی خدمت کا ایک ولولہ اپنے اندر پیدا کر کے واپس لوٹنے کی نصیحت فرمائی نیز فرمایا: " پس تقومی اور عفت کے راستوں پر قدم ماریں اور ان ایام کو دعاؤں اور ذکر الہی میں بسر کریں اور آپس میں اخوت اور محبت بڑھانے کی کوشش کریں کہ اسی میں خدا اور اُس کے رسول کی خوشنودی ہے اور اسی میں ہماری جماعت کی ترقی وابستہ ہے" آخری روز کا پیغام حضور نے اُسی روز 28 دسمبر کو تحریر فرمایا اور پہلی دفعہ یہ 2 جنوری 1964ءکےاخبارالفضل میں شائع ہوا۔اس مختصر سے پیغام میں حضور نے نہایت احسن انداز میں ایسی قربانیاں کرنے کی تلقین فرمائی جس کے پھل آئندہ نسلیں کھائیں گی۔آپ نے فرمایا: پس اپنے اندر صحیح معرفت پیدا کرو اور اپنی آئندہ نسلوں کو اسلام کا بہادر سپاہی پیدا بنانے کی کوشش کرو۔اور اس نکتہ کو کبھی مت بھولو کہ قربانی اپنا پھل تو ضرور لاتی ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ ہر قربانی کا پھل قربانی کرنے والا ہی کھائے۔جو شخص یہ چاہتا ہے کہ ساری قربانیوں کا پھل وہ خود ہی کھائے اُس سے زیادہ نادان اور کوئی نہیں ہوسکتا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ایک وادئ غيرِ ذِي زَرْعٍ میں رکھا مگر اُس کا پھل ایک مدت دراز کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل میں ظاہر ہوا اور دنیا اس پھل کو دیکھ کر حیران رہ گئی۔پھر تم کیوں یہ خیال کرتے ہو کہ تمہاری قربانیوں کا بدلہ تمہیں آج ہی ملنا چاہئے۔اگر تمہاری کسی وقت بھی تمہاری قربانیوں سے فائدہ اٹھا لے تو حقیقتا تمہاری قربانیوں کا پھل تمہیں مل گیا۔پس اپنے ذہنوں میں چلا اور اپنے فکر میں بلندی پیدا کرو اور قربانیوں کے میدان میں ہمیشہ آگے کی طرف قدم بڑھاؤ۔اگر تم ایسا کرو گے تو خدا تعالیٰ اپنی تائیدات سے تمہیں اس طرح نوازے گا کہ تم دنیا کے میدان میں ایک فٹ بال کی حیثیت نہیں رکھو گے بلکہ تم اُس برگزیدہ انسان کا ظل بن جاؤ گے جس کے متعلق آسمانی نوشتوں میں یہ کہا گیا تھا کہ وہ کونے کا پتھر ہو گا جس پر وہ گرے گا وہ بھی چکنا چور ہو گا اور جو اُس پر آگرا وہ بھی