انوارالعلوم (جلد 26) — Page 329
انوار العلوم جلد 26 329 سیر روحانی (11) اُسے پکڑ لیتے ہیں۔قرآن کریم میں اسی مضمون کے متعلق ایک اور آیت بھی ہے جس میں عجیب پیرا یہ میں اس مضمون کو بیان کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا يَسمَّعُونَ اِلَى الْمَلَا الْأَعْلَى وَيُقْذَفُونَ مِنْ كُلِّ جَانِبِ دُحُورًا وَلَهُمْ عَذَابٌ وَاصِبٌ إِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَاَتْبَعَهُ شِهَابٌ ثَاقِب 24 یعنی قرآنی لنگر جو روحانی باتوں پر مشتمل ہے اُس کے متعلق بعض دفعہ دشمنانِ اسلام چاہتے ہیں کہ اُس کی کچھ باتیں پہلے سے سن لیں اور پھر اُن کو بگاڑ کر مسلمانوں کو شرمندہ کریں۔مگر فرماتا ہے لَا يَسمَّعُونَ إلَى الْمَلَا الْأَغلى ایسے شیطان جو دشمنانِ اسلام ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ کوئی بات اُن کو معلوم ہو جائے چاہے نجوم کے ذریعہ سے یا قرآن کریم پر غور کر کے وہ اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوتے بلکہ جب بھی وہ ایسا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَيُقْذَفُوْنَ مِنْ كُلِّ جَانِبِ فوراً خدائی فرشتے آ جاتے ہیں اور چاروں طرف سے ان کو مار پڑتی ہے۔دُھورا اور پھر مار بھی ایسی پڑتی ہے کہ وہ مارکھا کر وہاں کھڑے نہیں رہ سکتے بلکہ دور چلے جاتے ہیں۔گو یا مار اُن کو دُور لے جانے کے لئے پڑتی ہے اور اس لیے پڑتی ہے کہ انہیں بھگا کر زمین کے کناروں تک لے جایا جائے کیونکہ اگر وہ پاس ہوں تو پھر بھی امکان ہوتا ہے کہ شاید کچھ بھنبھناہٹ سن لیں اور یہ پھر لوگوں کو جا کر دھوکا دیں۔وَلَهُمْ عَذَابٌ وَاصِب اور پھر اُن کو پرے ہی نہیں کیا جاتا بلکہ طرح طرح کے عذاب اُن پر نازل کئے جاتے ہیں جو ہمیشہ اُن کے ساتھ لگے رہتے ہیں۔یعنی اتنے خطرناک عذاب نازل ہوتے ہیں کہ دشمن سے دشمن بھی اور اُن کا گہرا دوست بھی مان لیتا ہے کہ ان پر خدا کا عذاب نازل ہو رہا ہے۔إِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص بندر کی طرح جھپٹا مار کر کوئی حقیر سی غذا اُٹھا کر لے جائے۔پس اگر بندر کی طرح وہ ایک آدھ لقمہ اُٹھا کر لے جائے تو یہ ہو سکتا ہے مگر خدا تعالیٰ اُس کا بھی ازالہ کر دیتا ہے اور اُس سے اُسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا کیونکہ ایک چھوٹا سا لقمہ جس سے پیٹ بھی نہ بھرتا ہو اُس سے کسی قوم نے کیا فائدہ اُٹھانا ہے۔پس اگر وہ قرآنی تعلیم میں سے کوئی بات اُڑا بھی لیں تو وہ بہت ہی حقیر ہو گی۔ایسی حقیر کہ قرآن کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکے گی ا اور