انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 279

انوار العلوم جلد 26 279 بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ متفرق امور (فرمودہ 27 دسمبر 1957ء بر موقع جلسہ سالانہ بمقام ربوہ ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔”سب سے پہلے مجالس خدام الاحمدیہ میں سے اول اور دوم رہنے والوں کا اعلان کیا جاتا ہے۔مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ اس سال کی پڑتال پر شہری مجالس میں سے مجلس خدام الاحمدیہ کراچی بہترین کام کرنے والی قرار پائی ہے اور مجلس خدام الاحم یہ راولپنڈی دوم رہی ہے۔اسی طرح دیہاتی مجالس میں سے مجلس خدام الاحمدیہ کرونڈی خیر پور ڈویژن اول اور مجلس خدام الاحمد یہ چک نمبر 98 ( ضلع سرگودھا) دوم رہی ہے۔ان مجالس کے قائدین یا ان کے نمائندے مرکزی دفتر سے اپنی سندات حاصل کرلیں۔اسی طرح مجلس انصار اللہ مرکزیہ کی طرف سے اعلان کیا جاتا ہے کہ مجلس انصار اللہ ملتان شہر حسن کارکردگی کے سلسلہ میں اس سال اول رہی ہے۔مجلس انصار اللہ ملتان شہر کے زعیم ، مرکزی دفتر سے انعامی علم حاصل کر لیں۔تفسیر صغیر اور سلسلہ کے دوسرے کاموں کے سلسلہ میں میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل شکت تو یہ ہے کہ اچھا کام کرنے والوں کو خطابات دیئے جائیں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید کو سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ الله کا خطاب عطا فر مایا تھا۔لیکن چونکہ خطابات کا کام غور وفکر چاہتا ہے اور میں نے اس پر ابھی غور نہیں کیا اس لئے فی الحال میں نے یہ تجویز کیا ہے کہ اس سال جماعت کی طرف سے کسی قدر کام کرنے والوں کی دل جوئی اور ان کے کام کی خوشنودی کے طور پر کچھ رقم 66 انعام کے طور پر تقسیم کر دی جائے۔“