انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 173

انوار العلوم جلد 26 173 سیر روحانی (10) رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک حضرت باقی باللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک مجد دصاحب سرہندی رحمتہ اللہ علیہ کا لگا، ایک شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک خواجہ میر ناصر رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک خواجہ میر درد رحمتہ اللہ علیہ کا لگا، ایک سید احمد صاحب بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کا لگا اور سب سے آخر میں باغ محمد می کی حفاظت کرنے والے درخت مسیح موعود کا پودا لگا جس کو خود مسلمانوں نے بدقسمتی سے کاٹ کر چاہا کہ محمد می باغ میں لوگ گھس جائیں، بکریاں اور بھیڑیں کھس جائیں اور محمد می باغ کو تباہ کر دیں۔مگر وہ پودا اس شان کا تھا کہ اُس نے کہا : - اے آنکہ سُوئے من بدویدی بصد تبر از باغبان بترس که من شارخ مثمرم 29 او شخص ! جو کہ سو کلہاڑے لے کر میرے کاٹنے کے لئے دوڑا آ رہا ہے میرے باغبان خدا سے یا محمد رسول اللہ سے ڈر کہ میں وہ شاخ ہوں جس کو پھل لگے ہوئے ہیں۔اگر تو مجھے کاٹے گا تو محمد رسول اللہ کا پھل کٹ جائے گا اور نتیجہ یہ ہوگا کہ محمد رسول اللہ کا باغ بے شمر رہ جائے گا۔پس تو مجھے نہیں کاٹ رہا تو محمد رسول اللہ کے باغ کو اُجاڑ رہا ہے اور خدا کبھی برداشت نہیں کرے گا کہ محمد رسول اللہ کا باغ اُجڑے وہ ضرور اس کی حفاظت کرے گا۔محمد رسول اللہ کے باغ کی حفاظت چنانچہ آسمان سے اللہ تعالیٰ مسیح موعوڈ کی حفاظت کے لئے اُترا اور باوجود مولوی کے لئے خدا تعالیٰ کی تجلیات عبدالبار، مولوی عبدالحق، مولوی احمد بن عبداللہ غزنوی، مولوی عبد الواحد بن عبد اللہ غزنوی ، مولوی محمد حسین بٹالوی ، مولوی ثناء اللہ امرتسری اور اور سینکڑوں ہزاروں مولویوں اور مولوی نذیر حسین دہلوی کے فتووں اور دیو بندیوں کے جوش کے اور جمعیۃ العلماء کی تمام طاقتوں کے اور 1953 ء کا فساد پیدا کرنے والے علماء کی کوششوں کے باوجود اس کے کہ سب نے اکٹھا ہو کر حملہ کیا اللہ تعالیٰ سینہ سپر ہو کر کھڑا ہو گیا کہ میں محمد رسول اللہ کے باغ کو نہیں اُجڑ نے دوں گا۔یہ تو باڑ ہے