انوارالعلوم (جلد 26) — Page xiv
انوار العلوم جلد 26 3 تعارف کتب فرمایا کہ کل احمدی دوست پنسل اور کاغذ ساتھ لا کر خاکسار کے خطاب کے نوٹس لیں۔تا وہ ان تقاریر کو واپس جا کر اپنے ماحول میں احباب کو سنائیں اور بعد میں امتحان بھی ہو۔(2) خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت اور اس کا پس منظر سیدنا حضرت مصلح موعود نے یہ معرکۃ الآراء خطاب مؤرخہ 27 دسمبر 1956ء کو جلسہ سالانہ ربوہ کے دوسرے روز ارشاد فرمایا۔اس خصوصی خطاب کا پس منظر وہ فتنہ خلافت تھا جو مولوی عبد المنان عمر صاحب اور مولوی عبدالوہاب صاحب کے بعض حمایتیوں نے خلافت ثانیہ کے خلاف بر پا کرنا چاہا اور اندرون خانہ بعض نجی محافل اور مجالس میں خلافت ثانیہ پر تنقید پر مبنی تھا۔جن میں سے حضرت خلیفہ المسیح الثانی پرسہ سب سے بڑا الزام یہ لگانے کا پروپیگنڈا کیا گیا کہ آپ اپنے بعد اپنے سب سے بڑے صاحبزادے مرزا ناصر احمد صاحب کو اپنا جانشین اور خلیفہ بنانا چاہتے ہیں۔اس فتنہ میں شاملین کی کل تعداد تاریخ احمدیت کے مطابق تقریبا 14 افراد پر مبنی تھی۔چنانچہ اس صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے حضرت مصلح موعود نے جلسہ سالانہ پر اپنے دوسرے روز کا خطاب ( گزشتہ معمول سے ہٹ کر ) اس فتنہ کے سلسلہ میں ارشاد فرمایا۔جس میں اس فتنہ کا پس منظر اور اس کی تفصیلات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔اس خطاب کے دو حصے تھے(i) خلافت حقہ اسلامیہ (ii) نظام آسمانی کی مخالفت اور اس کا پس منظر حضرت مصلح موعود نے سب سے پہلے تو اپنے اس خطاب میں ” خلافت حقہ اسلامیہ کی وجہ تسمیہ بیان فرمائی اور اس کے بعد آپ نے مسند احمد بن حنبل میں بیان فرمودہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خلافت علی منہاج النبوۃ والی مشہور حدیث سے استدلال کرتے ہوئے خلافت احمدیہ کے قیامت تک قائم و دائم رہنے کو رسالہ الوصیت کی روشنی میں بیان فرمایا۔اور رسالہ الوصیت میں نظامِ خلافت کیلئے استعمال کئے گئے الفاظ قدرت ثانیہ سے نظامِ خلافت ہی کو ثابت فرمایا جس کی تائید میں آپ نے پیغامیوں کے عمائدین و سرکردہ افراد میں سے خواجہ کمال الدین صاحب کی اپنی ایک تحریر کو پیش فرمایا